حضرت حفصہ ؓ — Page 14
14 اُن سے اسی طرح بات کرتی ہیں۔حضرت عمرؓ نے پیار سے سمجھایا۔بیٹا میں نے تجھے پہلے بھی کہا تھا کہ اس کی نقل نہ کیا کرو کہیں اپنا نقصان نہ کر بیٹھنا۔ہمیشہ ادب، احترام، اطاعت گزاری اور سلیقہ شعاری کا خیال رکھنا۔پیارے آقا ﷺ کی زندگی کے حالات دیکھیں تو دو ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں آپ عمﷺ نے حلال چیز سے خود کو روکا۔پہلا واقعہ یوں ہے کہ رسول کریم میے کو ایک دفعہ ایک بیوی نے جس کے گھر ماری تھی شہد کا شربت پلایا جو آپ ﷺ کو پسند تھا۔اس وجہ سے آپ ﷺ دیر تک اس کے الله صلى الله ہاں ٹھہرے دوسری بیویوں کو یہ بُرا لگا۔ایک بیوی نے جسے شہد پسند نہ تھا الله آپ ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ کے منہ سے بو آتی ہے۔آپ ﷺ نے دل میں عہد کیا کہ آئندہ شہد نہ پئیں گے اس پر سورۃ تحریم آیت 1-2 نازل ہوئیں، جس میں فرمایا گیا کہ شہد کو خدا تعالیٰ نے اچھا قرار دیا ہے کسی بیوی کی خاطر اُس کا ترک بُری بات ہے۔آپ ﷺ نے ایک۔۔۔۔۔بیوی کے ہاں شہر پیا اور دوسری کو وجہ بتائی اس پر اُس نے اور اُس کی سہیلی نے سمجھا کہ شہد تو بعض دفعہ بو دار بوٹیوں کا بھی ہوتا ہے۔آپ ﷺ سے کہنا چاہیے کہ شہد سے بعض دفعہ کو آتی ہے اس سے آپ اس بیوی کے ہاں زیادہ جانا چھوڑ دیں گے۔اس واقعہ کا اس جگہ ذکر ہے۔(23)