حدیقۃ الصالحین — Page 83
83 اصرار کرے تو اسے کہو کہ وہ تمہاری ذمہ داری تمہیں واپس کر دے۔کیونکہ ہمیں یہ ناپسند ہے کہ ہم تمہاری ذمہ داری کو توڑیں اور ہم تو ابو بکر کو اعلان نہیں کرنے دیں گے۔حضرت عائشہ فرماتی تھیں چنانچہ ابن الدغنہ حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور کہنے لگا تمہیں علم ہی ہے کہ جس بات پر میں نے تمہاری خاطر عہد کیا تھا۔پس یا تو تم اس بات کے پابند رہو اور یا میری ذمہ داری مجھے واپس کر دو۔کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ عرب لوگ یہ سنیں کہ ایک شخص کے متعلق کہ جس کی خاطر میں نے عہد کیا تھا میری ذمہ داری توڑ دی گئی ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا اچھا میں تمہیں تمہاری پناہ واپس کرتا ہوں اور اللہ عزوجل کی پناہ پر راضی ہو تا ہوں اور نبی صلی المی ام ان دنوں مکہ میں ہی تھے۔نبی صلی علیہ یکم نے مسلمانوں سے کہا تمہاری ہجرت کا مقام مجھے دکھایا گیا ہے جہاں کھجوریں ہیں اور پتھر یلے میدانوں میں واقع ہے اور وہ یہی مدینہ کے دو میدان ہیں۔تو یہ سن کر جن مسلمانوں سے ہو سکا وہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور جو حبشیوں کے ملک میں ہجرت کر گئے تھے وہ بھی اکثر آخر مدینہ کولوٹ آئے اور حضرت ابو بکر نے بھی مدینہ جانے کی تیاری کی تو نبی صلی للی کرم نے فرمایا ذرا ٹھہر جائیں۔کیونکہ میں بھی امید کرتا ہوں کہ مجھے بھی اجازت دی جائے۔حضرت ابو بکر نے کہا اور کیا آپ اس کی امید کرتے ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔چنانچہ حضرت ابو بکر نے رسول اللہ صلی علیکم کی خاطر اپنے آپ کو روکے رکھا تا وہ آپ کے ساتھ ہی جائیں اور دوسواری کی اونٹنیوں کو جو اُن کے پاس تھیں کیکر کے پتے چار مہینے تک چراتے رہے۔ابن شہاب کہتے تھے عروہ نے کہا حضرت عائشہ فرماتی تھیں ایک دن ہم حضرت ابو بکر کے گھر ٹھیک دوپہر کے وقت بیٹھے ہوئے تھے، کسی کہنے والے نے حضرت ابو بکر سے کہا رسول اللہ صل للہ ہم اپنے سر پر کپڑا اوڑھے ہوئے آرہے ہیں۔آپ ایسے وقت آئے کہ جس میں آپ ہمارے پاس نہیں آیا کرتے تھے۔تو حضرت ابو بکر نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان۔خدا کی قسم ! آپ جو اس وقت تشریف لائے ہیں تو ضر ور کوئی بڑا کام ہے۔کہتی تھیں اتنے میں رسول اللہ کی تعمیر یکم آن ہی پہنچے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔حضرت ابو بکر نے اجازت دی۔آپ اندر آئے۔نبی صلی علی یکم نے حضرت ابو بکر سے کہا جو تمہارے پاس ہیں انہیں باہر بھیج دو۔حضرت ابو بکڑ نے کہا یا رسول اللہ !میرے ماں باپ آپ پر قربان۔گھر میں تو صرف آپ ہی کے گھر والے ہیں ( یعنی عائشہ اور اتم رومان ان کی والدہ) تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا مجھے ہجرت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔تو یاده