حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 84 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 84

84 حضرت ابو بکر نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلئے۔میرے ماں باپ آپ پر قربان۔تو رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا ہاں ( تم بھی میرے ساتھ چلو۔) پھر حضرت ابو بکر نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان تو پھر میری ان دو سواری کی اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیجئے۔رسول اللہ صلی یکم نے فرمایا قیمتا لوں گا۔حضرت عائشہ فرماتی تھیں چنانچہ ہم نے جلدی سے دونوں کا سامان سفر تیار کر دیا اور ہم نے ان کے لئے توشہ تیار کر کے چھڑے کے تھیلہ میں ڈال دیا۔حضرت ابو بکر کی بیٹی حضرت اسمان نے اپنے کمر بند سے ایک ٹکڑا کاٹ کر تھیلے رم کے منہ کو اس سے باندھا، اس لئے ان کا نام ذات النطاق ہو گیا۔فرماتی تھیں پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی الی کم اور حضرت ابو بکر ثور پہاڑ کی ایک غار میں جا پہنچے اور اس میں تین راتیں چھپے رہے۔حضرت عبد اللہ بن ابو بکر ان دونوں کے پاس جا کر رات ٹھہر تے اور اس وقت وہ چالاک اور ہشیار جوان تھے اور اندھیرے ہی میں ان کے پاس سے چلے آتے اور مکہ میں قریش کے ساتھ ہی صبح کرتے جیسے وہیں رات گزاری ہے۔جو تدبیر بھی ان کے متعلق سنتے وہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیتے اور جب اندھیرا ہو جاتا تو غار میں پہنچ کر ان کو بتا دیتے اور حضرت ابو بکر کا غلام عامر بن فہیرہ بکریوں کے ریوڑ میں سے ایک دو دھیل بکری ان کے پاس چراتا رہتا اور جب عشاء کے وقت سے کچھ گھڑی گزر جاتی تو وہ بکری ان کے پاس لے آتا اور وہ دونوں تازہ دودھ پی کر رات گزارتے اور یہ دودھ ان دونوں کی دو د جیل بکری کا ہوتا۔عامر بن فہیر و رات کے پچھلے پہر ( گلے میں چلا جاتا اور بکریوں کو آواز دینا شروع کر دیتا۔تین رات تک وہ ایسا ہی کرتا رہا اور رسول اللہ صلی املی کام اور حضرت ابو بکر نے بنو دیل کے قبیلہ کے ایک شخص کو راستہ بتانے کے لئے اجرت پر رکھ لیا اور وہ بنو عبد بن عدی سے تھا۔بہت ہی واقف کار راستہ بتانے کا ماہر تھا۔خریت عربی میں اس شخص کو کہتے ہیں جو راہ دکھانے میں ماہر ہو۔اس شخص نے عاص بن وائل سہمی کے خاندان کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئے اپنا ہاتھ ڈبویا تھا اور وہ کفار قریش ہی کے مذہب پر تھا۔آنحضرت علی ای کم اور حضرت ابو بکر دونوں نے اس پر اعتبار کیا اور اپنی سواری کی اونٹنیاں اس کے سپر د کر دیں اور اس سے یہ وعدہ ٹھہرایا کہ وہ تین دن کے بعد صبح کے وقت ان کی اونٹنیاں لے کر غار ثور پر پہنچے گا۔عامر بن فہیرہ اور رہبر ان دونوں کے ساتھ چلے۔وہ رہبر اُن تینوں کو سمندر کے کنارے کے راستہ سے لے کر چلا۔