حدیقۃ الصالحین — Page 82
82 جیسے بہترین شخص کو ملک سے نہیں جانا چاہیے اور نہ اسے نکالا جانا چاہیے۔تم تو نادار کو کم کر دیتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، عاجز کو سہارا دیتے ہو ، مہمان نوازی کرتے ہو اور پیش آمدہ ضرورتوں میں مدد دیتے ہو۔میں تمہاری پناہ ہوں گا۔واپس جاؤ اور اپنے شہر میں ہی اپنے رب کی عبادت کرو۔چنانچہ حضرت ابو بکر لوٹ آئے اور ابن الدفنہ نے بھی ان کے ساتھ ہی کوچ کیا۔پھر ابن الدغنہ نے شام کے وقت قریش کے بڑے بڑے لوگوں میں چکر لگایا اور ان سے کہا ابو بکر جیسے بہترین شخص کو ملک سے نہیں جانا چاہیے اور نہ اس کو نکالا جانا چاہیے۔کیا تم اس شخص کو نکالتے ہو جو نادار کو کما کر دیتا ہے ،صلہ رحمی کرتا ہے ، عاجز کو سہارا دیتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے اور پیش آمدہ ضرورتوں میں مدد دیتا ہے۔چنانچہ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ رڈ نہیں کی اور انہوں نے ابن الدغنہ سے کہا ابو بکر سے کہو کہ اپنی چار دیواری میں ہی اپنے رب کی عبادت کرے۔اسی میں نماز ادا کرے اور اسی میں جو چاہے پڑھے اور ہمیں اس سے تکلیف نہ دے اور نہ اس کا اعلان کرے۔کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ہماری عورتوں اور لڑکوں کو بہکا نہ دے۔چنانچہ ابن الدغنہ نے حضرت ابو بکر سے یہ کہہ دیا اور حضرت ابو بکر بھی اس پر قائم رہے۔وہ اپنی چار دیواری کے اندر ہی اپنے رب کی عبادت کرتے تھے اور اپنی نماز اعلانیہ طور پر ادا نہ کرتے تھے اور نہ ہی اپنی چار دیواری کے سوا کسی اور جگہ قرآن مجید پڑھتے۔پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر کو خیال آیا اور انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنالی اور اس میں نماز ادا کیا کرتے اور قرآن پڑھا کرتے۔انہیں سن کر مشرکوں کی عورتیں اور ان کے بیٹے حضرت ابو بکر کے پاس آن جمع ہوتے اور ان سے تعجب کرتے اور ان کو دیکھتے رہتے اور حضرت ابو بکر بہت رونے والے شخص تھے۔جب قرآن پڑھتے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھتے اور اس بات نے مشرکین قریش کے بڑے بڑے آدمیوں کو گھبرا دیا۔انہوں نے ابن الدغنہ کو بلا بھیجا۔چنانچہ وہ آیا تو انہوں نے کہا ہم نے تو تمہاری پناہ کی وجہ سے ابو بکر گو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں ہی اپنے رب کی عبادت کرے۔مگر وہ اس سے آگے بڑھ گیا ہے اور اس نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنائی ہے اور اس مسجد میں نماز اور قرآن اعلامیہ پڑھنا شروع کر دیا ہے اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ ہماری عورتوں اور ہمارے بیٹوں کو بہکا نہ دے۔اس لئے تم اس کو روک دو۔پس اگر وہ اس کی پابندی کرنا پسند کرے کہ اپنے گھر میں ہی رہ کر اپنے رب کی عبادت کرتا رہے تو کرے اور اگر اس کے اعلان کرنے پر ہی