حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 779 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 779

779 خوبصورت ہو گئی یہ وہ فتح ہے اور مؤمنوں کا اکٹھے ہونا ہے جو اللہ نے عطا فرمایا اور میں نے اس خواب میں گائیں بھی دیکھیں۔اللہ (سراسر) خیر ہے تو یہ مؤمنوں میں سے وہ لوگ ہیں جو اُحد میں (شہید ہوئے) اور خیر تو وہ خیر ہے جو اللہ نے اس کے بعد عطا فرمائی اور سچائی کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بدر کے بعد عطا فرمایا۔974ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِى فِي لَقِيتُ مُوسَى، قَالَ فَنَعَتُهُ، فَإِذَا رَجُلٌ، حَسَبْتُهُ قَالَ مُضْطَرِب رَجِلُ الرَّأْسِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ۔قَالَ وَلَقِيتُ عِيسَى، قَالَ فَنَعَتُهُ، قَالَ رَبعَةُ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ، يَعْنِي الحَمامَ ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ۔قَالَ وَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا لَبَنَّ وَالْآخَرُ فِيهِ خَمَرٌ، فَقِيلَ لِي: خُذْ أَيَهُمَا شِئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَن فَشَرِبْتُهُ، فَقِيلَ لِي: هُدِيتَ الْفِطْرَةَ، أَوْ أَصَبْتَ الفِطْرَةَ، أَمَّا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ۔(سنن الترمذي كتاب تفسير القرآن باب و من سورة بني إسرائيل 3130) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا معراج کے موقع پر میری ملاقات حضرت موسیٰ سے ہوئی جن کے بال لمبے اور بکھرے ہوئے تھے۔میں نے ان کی شکل کا جائزہ لیا تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے شنوءہ کے قبیلہ کا کوئی فرد ہو۔اسی طرح میری ملاقات حضرت عیسی سے بھی ہوئی میں نے ان کی شکل کا جائزہ لیاوه در میانه قد سرخی مائل رنگ۔یوں لگتا جیسے ابھی ابھی حمام سے نکلے ہوں۔میں نے حضرت ابرہیم کو بھی دیکھا میری شکل و صورت ان سے بے حد ملتی تھی۔پھر حضور ملی یہ کم نے فرمایا کہ میرے سامنے دو بر تن لائے گئے۔ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی اور مجھ سے کہا گیا کہ جو پسند ہے وہ لے لیں۔میں نے دودھ لیا اور اسے پی لیا۔اس پر مجھے بتایا گیا کہ تمہاری صحیح فطرت کی طرف رہنمائی ہوئی ہے اگر آپ صلی ال یکم شراب پسند کرتے تو (عیسائیوں کی طرح) آپ کی امت بھی گمراہ ہو جاتی اور بھنکتی پھرتی۔