حدیقۃ الصالحین — Page 778
778 حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی سر زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جس میں کھجور کے درخت ہیں۔میر اخیال گیا کہ یہ یمامہ یا ہجر ہے۔مگر اس کی تعبیر مدینہ یثرب تھی اور میں نے اپنے اس خواب میں دیکھا کہ میں نے ایک تلوار بلائی ہے تو اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا ہے۔تو ٹوٹنے کی تعبیر وہ مومن ہیں جو جنگ اُحد کے دن شہید ہوئے۔پھر میں نے اس کو دوبارہ ہلایا تو پھر وہ ویسی اچھی ہو گئی جیسی کہ وہ پہلے تھی۔تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا فتح دینا اور مومنوں کا پھر سے اکٹھا ہونا تھا اور میں نے اس خواب میں کچھ گائیں دیکھیں اور اللہ خیر کے الفاظ سنے تو معلوم ہوا کہ گائیوں سے مراد وہ مومن تھے جو جنگ اُحد کے دن شہید ہوئے، اور خیر سے مراد وہی خیر اور سچائی کا بدلہ تھا جو اللہ نے ہمیں جنگ بدر کے بعد دیا۔عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضِ بِهَا نَخْلُ ، فَذَهَبَ وَهْلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ، فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ، وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ أَبِي هَزَزْتُ سَيْفًا، فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أَحْدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَيْضًا بَقَرًا وَاللهُ خَيْرٌ ، فَإِذَا هُمُ النَّفَرُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَإِذَا الخيرُ مَا جَاءَ اللهُ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ بَعْدُ، وَثَوَابُ الصدقِ الَّذِي آتَانَا اللهُ بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ (مسلم کتاب الرویا باب رويا النبي 4203) حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ نبی صلی یم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہاہوں جس میں کھجور کے درخت ہیں تو میں نے خیال کیا کہ وہ یمامہ یا حجر ہے لیکن وہ مدینہ یثرب نکلا اور میں نے اس رویا میں دیکھا کہ میں نے ایک تلوار لہرائی تو اس تلوار کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے یہ وہ تکلیف ہے جو اُحد کے دن مسلمانوں کو اٹھانی پڑی۔میں نے اسے پھر دوسری دفعہ لہرایا تو وہ پہلے سے زیادہ