حدیقۃ الصالحین — Page 777
777 رویا اور کشوف کی اہمیت 972 - عن أبي سعيد الخدري أنهُ سَمِعَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يُحِبُّهَا، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللهِ، فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِثُ بِهَا، وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ شَرِهَا، وَلَا يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ (صحيح البخاري كتاب التعبير باب الرويا من الله (6985 رض حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی علیم سے سنا۔آپ فرماتے تھے۔اگر تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور چاہیے کہ وہ اس کی وجہ سے اللہ کا شکر یہ کرے اور اس خواب کو بیان کرے اور اگر اس کے سوا کوئی ایسی خواب دیکھے جس کو نا پسند کر تا ہو تو وہ شیطان ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔چاہیے کہ اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے تو اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔973ـ عَنْ أَبِي مُوسَى، أَرَاهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَأَيْتُ فِي المَنَامِ أَنِّي أَهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضِ بِهَا نَخْلُ، فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَى أَنَّهَا اليَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ، فَإِذَا هِيَ المَدِينَةُ يَثْرِبُ، وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ أَبِي هَزَزْتُ سَيْفًا، فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ المؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ بِأُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الفَتْحِ، وَاجْتِمَاعِ المُؤْمِنِينَ وَرَأَيْتُ فِيهَا بَقَرًا، وَاللهُ خَيْرٌ فَإِذَا هُمُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَإِذَا الخَيْرُ مَا جَاءَ اللهُ بِهِ مِنَ الخَيْرِ وَثَوَابِ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللَّهُ بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ (صحيح البخاري كتاب المناقب، باب علامات النبوة في الاسلام 3622)