حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 57 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 57

57 43 - وَرَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْلِفُ البَعِيرَ وَيَقُمُ الْبَيْتَ وَيَخْصِفُ النَّغْلَ وَيَرْقَعُ الثَّوْبَ وَيَحْلِبُ الشَّاةَ وَيَأْكُلُ مَعَ الخَادِمِ وَيَطْحَنُ مَعَهُ إِذَا أَغْيًا وَكَانَ لَا يَمْنَعُهُ الحَيَاءُ أَن يَحْمِلَ بِضَاعَتَهُ مِنَ السُّوْقِ إِلَى أَهْلِهِ وَكَانَ يُصافح الغَنِيَّ وَالفَقِيرَ ويُسَلِّمُ مَبْتَدِئًا وَلَا يَحْتَقِرُ مَا دُعِيَ إِلَيْهِ وَلَوْ إِلَى حَشْفِ التَّمْرِ وَكَانَ هَيْنَ المَؤنَةِ لَيْنَ الخُلُقِ كَرِيمَ الطَّبِيعَةِ جَمِيْلَ المُعَاشَرَةِ طَلْقَ الوَجْهِ بَسَّاماً مِنْ غَيْرِ ضحك مَحْرُوناً مِنْ غَيْرِ عَبُوسَةٍ مُتَوَاضِعاً مِنْ غَيْرِ مَذِلَّةٍ جَواداً مِنْ غَيْرِ سَرَفٍ رَقِيْقَ الْقَلْبِ رحماً بِكُلِّ مُسْلِمٍ لم يتجها قط مِنْ شَبَحَ وَلَمْ يَمدَّ يَدَهُ إلى جمع۔(الرسالة القشيرية ، باب الخشوع التواضع صفحه 183,184) حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی کم کی زندگی بڑی سادہ تھی۔آپ صلی للہ ہم کسی کام کو عار نہیں سمجھتے تھے ) اپنے اونٹ کو خود چارہ ڈالتے۔گھر کے کام کاج کرتے۔اپنی جو تیوں کی مرمت کر لیتے۔کپڑے کو پیوند لگا لیتے۔بکری دوہ لیتے۔خادم کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے۔آٹا پیتے پیتے اگر وہ تھک جاتا تو اس میں اس کی مدد کرتے۔بازار سے گھر کا سامان اٹھا کر لانے میں شرم محسوس نہ کرتے امیر غریب ہر ایک سے مصافحہ الله کرتے۔سلام میں پہل کرتے اگر کوئی معمولی کھجوروں کی بھی دعوت دیتا تو آپ صلی علی کم اسے حقیر نہ سمجھتے اور قبول کرتے۔آپ صلی علیہ کی نہایت ہمدرد، نرم مزاج اور حلیم الطبع تھے۔آپ کا رہن سہن بڑا صاف ستھرا تھا۔بشاشت سے پیش آتے۔تبسم آپ صلی الی یکم کے چہرے پر جھلکتا رہتا۔آپ صلی علیہ کم زور کا قہقہ لگا کر نہیں ہنستے تھے۔خدا کے خوف سے فکر مند رہے لیکن ترش روئی اور مخشکی نام کو نہ تھی۔منکسر المزاج تھے لیکن اس میں کسی کمزوری، پست ہمتی کا شائبہ تک نہ تھا۔بڑے سخی (کھلے ہاتھ کے) لیکن بیجا خرچ سے ہمیشہ بچتے۔نرم دل، رحیم و کریم تھے۔ہر مسلمان سے مہربانی سے پیش آتے۔اتنا پیٹ بھر کر نہ کھاتے کہ ڈکار لیتے رہیں۔کبھی حرص و طمع کے جذبہ سے ہاتھ نہ بڑھاتے بلکہ صابر و شاکر اور کم پر قانع رہتے۔