حدیقۃ الصالحین — Page 58
58 وعَن عائشة والحَسَنِ وأبي سَعِيدٍ وغيرهم في صِفَةِ النَّبِيِّ صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم وَبَعْضُهِمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ كَانَ في بَيْتِهِ في مِهْنَةِ أَهْلِهِ، يَفْلِي ثَوْبَهُ، وَيَحْلِبُ شَأْتَهُ، وَيَرْفَعُ ثَوْبَهُ، وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ، وَيَعْلفُ نَاضِحَهُ وَيَقُهُ الْبَيْتَ، وَيَعْقِلُ الْبَعِيرَ وَيَأْكُلُ مَعَ الْخَادِمِ، وَيَعْجِن مَعَهَا وَيَحْمِلُ بِضَاعَتَهُ مِنَ السُّوقِ۔(الشفاء بتعريف حقوق المصطفى ، الباب الثاني في تكميل الله تعالى إله المحاسن خَلْقاً و خُلقاً، الفصل التاسع عشر التواضع، صفحه 176) حضرت عائشہ ، حضرت حسن اور حضرت ابو سعید اور بعض اور صحابہ سے نبی صلی الی یکم کی صفات کے متعلق روایت ہے اور بعض دوسروں سے زائد بات بیان کرتے ہیں کہ آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ کام میں مصروف رہتے اپنے کپڑوں کو پیوند لگاتے ، اپنی بکری کا دودھ دوہتے ، اپنے کپڑوں کو سی لیتے اپنی جوتی کو ٹا نگا لگا لیتے اپنے کام خود کرتے ، گھر کی صفائی کر لیتے اونٹ باندھتے پانی نکالنے والی اونٹنی کا چارہ ڈالتے خادم کے ساتھ کھانا کھا لیتے اور اس کے ساتھ آٹا گوندھ لینے میں مدد کرتے اور بازار سے اپنا سامان اٹھا کر لاتے۔وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ الله عنها كَانَ يَرْقَعُ الثَّوْبَ وَيَقُهُ البَيْتَ، وَيَخْصِفُ النَّعْلَ، وَيَطْحَنُ عَنْ خَادِمِهِ إِذَا أَغْيًا۔(اسد الغابة، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ذکر جمل من اخلاقه و معجزاتہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جلد 1 صفحہ 138) حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ آپ اپنے کپڑے کو پیوند لگالیتے اور گھر کی صفائی کر لیتے اور جوتے کو ٹا نکالگا لیتے ، جب خادم تھک جاتا تو اس کا آٹا پینے کا کام خود کر لیتے۔44 - عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ قِيلَ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ ؟ قَالَتْ كَمَا يَصْنَعُ أَحَدُكُمْ يَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيُرَقْعُ ثَوْبَهُ (مسند احمد بن حنبل ، مسند النساء ، مسند الصديقة عائشة بنت الصديق رضي الله عنها 25256)