حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 669 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 669

669 854ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَةً عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، غَضِبْتَ وَقُمتَ ، قَالَ إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكَ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، وَقَعَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا بَكْر ثَلاتٌ كُلُهُنَّ حَقٌّ: مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ يها نفرَهُ، وَمَا فَتح رَجُلٌ بَاتٍ عَطِيَّةٍ ، يُرِيدُ بِهَا صِلَةَ، إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةٌ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَاب مَسْأَلَةٍ ، يُريد بها كثرَةٌ إِلَّا زَادَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا قِلَةٌ (مسند احمد بن حنبل ، مسند المكثرين من الصحابه ، مسند ابی هریره رضی اللہ عنہ 9622) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت صلی لی ایم کے سامنے ابو بکر کو برا بھلا کہہ رہا تھا اور حضرت ابو بکر چپ تھے حضور صلی یہ کم بیٹھے مسکراتے رہے اور تعجب کرتے رہے جب اس شخص نے گالیاں دینے میں حد کر دی تو ابو بکڑ نے بھی جو اب کچھ الفاظ کہے۔اس پر نبی صلی للی کنم ناراضگی کے انداز میں کھڑے ہو گئے اور چل پڑے۔حضرت ابو بکر نے جا کر حضور علی کی کمی سے عرض کیا کہ حضور جب تک وہ مجھے گالیاں دیتارہا آپ سنتے رہے اور بیٹھے رہے لیکن جب میں نے اس کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ آئے اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا اے ابو بکر جب تک تم خاموش تھے فرشتے تمہاری طرف سے اسے جواب دے رہے تھے لیکن جب تم نے خود جواب دینا شروع کیا تو فرشتے چلے گئے اور شیطان آگیا۔میں شیطان کے ساتھ کس طرح بیٹھ سکتا تھا۔پھر فرمایا اے ابو بکر تین باتیں بر حق ہیں۔اول یہ کہ اگر کسی انسان سے زیادتی ہو اور وہ اللہ کی خاطر در گزر سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اسے عزت کا مقام عطاء کرتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔دوسری یہ کہ جس شخص نے بخشش کا دروازہ کھولا اور اس کا مقصد صرف صلہ رحمی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے مال کو زیادہ کرے گا اور اسے بہت دے گا۔تیسری