حدیقۃ الصالحین — Page 668
668 پھر آپ نے فرمایا آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے مگر ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے سوائے اس کے جس میں ہمارے رب کی رضا ہے۔خدا کی قسم اے ابراہیم ایقینا ہم تیری وجہ سے غمگین ہیں۔853 - عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ اشْتَكَى سَعْدُ بْن عُبَادَةً شَكْوَى لَهُ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي غَاشِيَةِ أَهْلِهِ، فَقَالَ قَدْ قَضَى ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى القَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا، فَقَالَ أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ العَيْنِ، وَلَا بحزْنِ القَلْبِ، وَلَكِن يُعَذِّبُ بِهَذَا - وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ - أَوْ يَرْحَمُ (بخاری کتاب الجنائز باب البكاء عند المريض 1304) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت سعد بن عبادہؓ کو کسی بیماری کی شکایت ہوئی تو رسول الله صلى علم ، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو اپنے ساتھ لے کر ان کی بیمار پرسی کے لئے گئے۔جب ان کے پاس پہنچے تو آپ نے ان کو گھر والوں کے جمگھٹ میں پایا۔آپ نے فرمایا کیا فوت ہو گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں یارسول اللہ۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم رو پڑے۔لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے دیکھا تو وہ بھی روئے۔آپ نے فرمایا سنتے نہیں۔دیکھو اللہ آنکھ کے آنسو نکلنے سے عذاب نہیں دیتا اور نہ دل کے غمگین ہونے پر۔بلکہ اس کی وجہ سے سزا دے گا یار تم کرے گا اور آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا۔