حدیقۃ الصالحین — Page 538
538 عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيكَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ، فَقَالَ إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِرَأْبِي فِيمَا لَمْ يُنَزِّلُ عَلَى فِيهِ (ابو داؤد کتاب القضاء باب فى قضاء القاضي اذا اخطاء 3585) عبد اللہ بن رافع بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ام سلمہ کو نبی صلی املی کام سے یہ حدیث بیان کرتے سنا انہوں نے کہا کہ دو شخص اپنی وراثت اور اشیاء کے بارہ میں جو پرانی ہو گئیں جھگڑا کرتے ہوئے آئے۔آپ نے فرمایا میں تمہارے درمیان ان باتوں کا اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا جن کے بارہ میں مجھ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔جھوٹی شہادت 684۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ السَّلَهِيَ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الإِسْلامِ ، فَأَصَابَ الأَعْرَابِ وَعَكَ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَ الأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بيعتي، فَأَبَ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أقلبي تعبي، فَأَبَ، فَخَرَجَ الأَعْرَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا المَدِينَةُ كَالكِيرِ، تَنْفِي خَبَقَهَا، وَيَنْصَعُ طِيبُهَا (بخاری کتاب الاعتصام بالكتاب و السنة باب ما ذكر النبي صل الله و وحض على اتفاق اہل العلم 7322) حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی العلیم کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمان ہوا۔کچھ دنوں کے بعد اس کو مدینہ میں بخار ہو گیا۔(اس تکلیف سے گھبر اکر) وہ دیہاتی رسول اللہ صلی للی کمی کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اپنا اسلام واپس لے لیں۔رسول اللہ صلی علیکم نے انکار فرمایا وہ دوسرے دن پھر آیا اور