حدیقۃ الصالحین — Page 539
539 کہنے لگا میرا اقرار بیعت واپس کر دیں۔رسول اللہ صلی اللی یکم نے فرما یا واپس لینے کے کیا معنی ؟ وہ بدوی تیسرے دن پھر آیا اور یہی مطالبہ کیا۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا ہم تمہارا مطالبہ پورا نہیں کر سکتے۔آخر وہ خود ہی مدینہ سے چلا گیا اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا مدینہ تو بھٹی کی طرح ہے کہ گند اور میل کچیل کو نکال پھینکتی ہے اور خالص اور طیب حصہ کو قائم اور باقی رکھتی ہے۔685 - عَن عائقةً، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَجُودُ فَبَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا تَجْلُودٍ حَدًّا وَلَا تَجْلُودَةٍ، وَلا ذِى غمرٍ لأَخِيهِ، وَلَا مُجَرَّبٍ هَبَادَةٍ، وَلَا القَائِع أهل البيت لَهُمْ وَلا قَلِيين في وَلَاء وَلَا قَرابة۔(ترمذی کتاب الشهادات باب ما جاء فيمن لا تجوز شهادته (2298) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللی نیلم نے فرما یا کسی خیانت کرنے والے مرد یا عورت کی گواہی درست نہیں اور نہ اس مرد یا عورت کی جسے حد کی سزا ملی ہو نہ کینہ ور دشمن کی اور نہ ایسے شخص کی جس کی جھوٹی شہادت کا تجربہ ہو چکا ہو اور نہ ایسے شخص کی جس کا گزارہ ان لوگوں پر ہو جن کے حق میں وہ گواہی دے رہا ہے اور نہ ایسے شخص کی جس پر اس شخص کے وارث یارشتہ دار ہونے کی تہمت لگے جس کے حق میں وہ گواہی دے رہا ہے۔686ـ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الكَبَائِرُ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَاليَمِينُ الغَمُوسُ (بخاری کتاب الايمان والنذور باب اليمين الغموس 6675) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی علیم نے فرمایا بڑے گناہ یہ ہیں۔اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہر انا۔والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔