حدیقۃ الصالحین — Page 537
537 683 - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوَارِيكَ بَيْنَهُمَا قَدْ دُرِسَتْ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيْنَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَى، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَعْلَمَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِ أَخِيهِ شَيْئًا، فَلَا يَأْخُذُهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔فَبَكَى الرَّجُلَانِ، وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِي لأَخِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِذْ قُلْنَا، فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا، ثُمَّ تَوَخَيَا الْحَقَ ، ثُمَّ اسْتَهِمَا، ثُمَّ لِيَحْلِلُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ الله و (مسند احمد بن حنبل ، الملحق المستدرك من مسند الانصار ، حدیث ام سلمة زوج النبي ص 27161) حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس دو آدمی آئے جن میں وراثت کی ملکیت کے بارہ میں جھگڑا تھا اور معاملہ پر انا ہو جانے کی وجہ سے ثبوت کسی کے پاس نہ تھا۔رسول اللہ صلی عالم نے ان کی بات سن کر فرمایا میں انسان ہوں اور ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ لسان ہو اور بات کو بڑے عمدہ اند از اور لہجہ میں بیان کر سکتا ہو اور میں اس کی باتوں سے متاثر ہو کر کوئی رائے قائم کروں اور اس کے حق میں فیصلہ دے دوں حالانکہ حق دوسرے فریق کا ہو۔ایسی صورت میں اسے اس فیصلہ سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے اور اپنے بھائی کا حق نہیں لینا چاہئے کیونکہ اس کے لئے دو ایک آگ کا ٹکڑا ہے جو میں اسے دلا رہا ہوں۔اگر وہ لے گا تو قیامت کے دن وہ سانپ بن کر اس کی گردن پر لپٹا ہو اہو گا۔حضور صلی اللی کم کی یہ بات سن کر دونوں کی چیخیں نکل گئیں اور ہر ایک نے عرض کیا۔حضور ! وہ کچھ نہیں لینا چاہتا۔ساری جائیداد میرے بھائی کو دے دی جائے آپ صلی الی یکم نے یہ سن کر فرمایا جب تم اس پر آمادہ ہو تو یوں کرو کہ جائیداد تقسیم کر کے قرعہ اندازی کر لو جس حصہ کے بارہ میں جس کا قرعہ نکلے وہ، وہ لے لے اور دوسرے کے حصہ میں نکلا ہوا قرعہ اسے بخش دے یعنی اگر اس کا کوئی حق دوسرے کے حصہ میں ہے تو وہ اسے معاف کر دے اور اسے بخش دے۔