حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 488 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 488

488 623 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كَانَ سَهْلُ ابْنُ حُنَيْفٍ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ بِالْقَادِسِيَّةِ، فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ، فَقَامَا، فَقِيلَ لَهُمَا: إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْشِرِكِ؟ فَقَالَا: مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ ؟! فَقَالَ أَلَيْسَتْ نَفْسًا ؟ (نسائی کتاب الجنائز باب القيام لجنازة اهل الشرك 1921) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی بیان کرتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد بن عبادہ قادسیہ میں تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو یہ دونوں بزرگ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے لوگوں نے انہیں بتایا کہ یہ جنازہ یہیں کے کسی (غیر مسلم) باشندے کا ہے یہ سن کر دونوں (بزرگ) کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی لنی کیم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اسے دیکھ کر آپ صلی الی کم کھڑے ہو گئے عرض کیا گیا کہ حضور صلی علیہم یہ جنازہ تو یہودی کا ہے آپ نے فرمایا تو اس سے کیا ہوتا ہے کیا یہ انسان نہیں (یعنی احترام میت ہر حال میں ضروری ہے)۔624 - عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَانَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيْتِ وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ ، وَاسْأَلُوا لَهُ بِالتَثْبِيتِ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ ابو داؤد کتاب الجنائز باب الاستغفار عند القبر للميت فى وقت الانصراف (3221 حضرت عثمان بن عفان بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ ہم جب کسی میت کی تدفین سے فارغ ہوتے تو اس پر کھڑے ہوتے اور فرماتے اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی مانگو کیونکہ اب اس سے پوچھ جائے گا۔