حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 487 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 487

487 621 - حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ ثُمَّ مَرُوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ وَجَبَتْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الخَطَابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ هَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا، فَوَجَبَتْ لَهُ الجَنَّةُ، وَهَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا، فَوَجَبَتْ لَّهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ (بخاری کتاب الجنائز باب ثناء الناس على الميت 1367) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ ایک جنازے کے پاس سے گذرے اور انہوں نے اس کی اچھی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہو گئی۔پھر ایک اور جنازے کے پاس سے گذرے۔انہوں نے اس کی مذمت کی۔(نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا واجب ہو گئی۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کیا چیز واجب ہو گئی ؟ آپ نے فرمایا جس کی تم نے اچھی تعریف کی، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے مذمت کی ہے ، اس کے لئے آگ واجب ہو گئی۔تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔622۔عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا، فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِتَحْمِلَ إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِي، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ الله إنما هي جَنَازَةُ يَهُودِي فَقَالَ إِنَّ الْمَوْتَ فَرَعْ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةٌ فَقُومُوا (ابو داؤد کتاب الجنائز باب القيام للجنازة 3174) حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی یی کم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک ہمارے پاس سے جنازہ گزرا۔آپ اُس کی خاطر کھڑے ہوئے۔جب ہم اُسے اُٹھانے کے لئے گئے تو وہ ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے۔آپ نے فرمایا موت ایک گھبر اہٹ پیدا کرنے والی چیز ہے۔پس جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔