حدیقۃ الصالحین — Page 486
486 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ہی ہم نے نجاشی کے فوت ہونے کی خبر اُسی روز دی تھی جس روز وہ فوت ہوئے تھے اور آپ ان (لوگوں) کے ساتھ عید گاہ کو گئے اور ان کی صفیں بند ھوائیں اور ان کے لئے چار تکبیریں کہیں۔619- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةً مُسْلِمٍ، إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيَفْرُغَ مِنْ دَفْنِهَا، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ مِنَ الأجر بقيراطين، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أَحَدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ (بخاری کتاب الایمان باب اتباع الجنائز من الايمان (47) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمان کے جنازے کے ساتھ ایمان کی وجہ اور رضائے الہی کی خاطر جاتا ہے۔جب تک اس کے جنازے کی نماز نہیں پڑھ لی جاتی اور اس کے دفنانے سے لوگ فارغ نہیں ہو جاتے ، تب تک وہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے تو وہ دو قیراط أجر لے کر واپس آتا ہے۔ایک ایک قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہو گا اور جس نے جنازہ پڑھا اور پھر اس کے دفنانے سے پہلے لوٹ آیا تو وہ ایک قیراط لے کر واپس آتا ہے۔620 - عَنْ أُمَّ عَطِيَّةٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ: نُهِينَا عَنِ اتَّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمُ عَلَيْنَا (بخاری کتاب الجنائز باب اتباع النساء الجنائز 1278) حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں جنازوں کے ساتھ جانے سے ہم رو کی گئی تھیں اگر ہمیں تاکیدی حکم نہیں دیا گیا تھا۔