حدیقۃ الصالحین — Page 485
485 617 - عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَشِعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَيْتَ القَوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ وَأَبْدِلُهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالَ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيْتَ (مسلم ، کتاب الجنائز باب الدعاء للميت في الصلاة 1589) حضرت عوف بن مالک بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی علیم نے ایک جنازہ پڑھایا تو میں نے آپ کی دعا یاد کر لی۔آپ کہہ رہے تھے اے اللہ ! اس کو بخش دے۔اس پر رحم کر، اس کو عافیت سے رکھ اور اس سے در گزر کر اور اس کی باعزت مہمانی فرما۔اور اس کے داخل ہونے کی جگہ کو وسیع کر دے اور اسے پانی اور برف اور اولوں سے دھو دے اور اسے بدیوں سے صاف کر دے جیسے ایک سفید کپڑے کو تو آلودگی سے صاف کرتا ہے۔اور اسے بدلے میں اس کے گھر سے بہتر گھر دے اور اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے عطا کر اور اس کے ساتھی سے بہتر ساتھی دے۔اور اس کو جنت میں داخل کر اور اس کو قبر کے عذاب سے پناہ دے یا (کہا) آگ کے عذاب سے۔راوی کہتے ہیں یہانتک کہ مجھے خواہش ہوئی کہ کاش وہ مرنے والا میں ہو تا۔618ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِي فِي اليَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى المُصَلَّى ، فَصَفَ بِهِمْ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ (بخاری کتاب الجنائز باب التكبير على الجنازة اربعا 1333)