حدیقۃ الصالحین — Page 448
448 شعبہ کہتے ہیں میں نے جبلہ بن سحیم کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن زبیر" ہمیں کھجوریں دیتے تھے۔راوی کہتے ہیں ان دنوں لوگ بہت مشکل حالات سے دوچار تھے۔ہم کھارہے تھے تو حضرت ابن عمر ہمارے پاس سے گذرے انہوں نے کہا دو دو کھجوریں ملا کر نہ لو کیونکہ رسول اللہ صلی ا ہم نے دو دو اکٹھی کھجوریں لینے سے منع فرمایا ہے۔سوائے اس کے کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے۔شعبہ کہتے ہیں میرے خیال میں یہ بات حضرت ابن عمرؓ کی ہے یعنی اجازت لینے کی بات۔555- عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَوْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ، أَنَّهُ حَذَقَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ، فَإِذَا فَرَغَ لَعِقَهَا (مسلم کتاب الاشربة باب استحباب لعق الاصابع و القصعة و اكل اللقمة الساقطة۔۔۔۔۔۔3777) سة حضرت کعب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللی می تین انگلیوں سے کھانا تناول فرماتے تھے اور جب فارغ ہوتے تو انہیں چاٹ لیتے تھے۔556 عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ، وَقَالَ إِذَا مَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُوط عَنْهَا الأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلِتَ الصَّحْفَةَ، وَقَالَ إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيْ طَعَامِكُمُ البَرَكَةُ (ترمذی کتاب الاطعمة باب ما جاء في اللقمة تسقط 1803) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلیالی کم کھانا تناول فرمانے کے بعد اپنی انگلیوں کے پوروں کو چاٹ لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر کھاتے وقت کوئی لقمہ گر جائے تو اسے صاف کر کے کھا لینا چاہئے اور اسے شیطان کے لئے نہیں چھوڑ نا چاہئے اور ہمیں حکم فرماتے تھے کہ ہم پلیٹ کو اچھی طرح صاف کر لیا کریں (یعنی کھانا نہ