حدیقۃ الصالحین — Page 447
447 553۔عن أَبي سَعِيدٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَطْعَمَنًا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ (ترمذی کتاب الدعوات باب ما يقول اذا فرغ من الطعام (3457) حضرت ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی یکم جب کھانا تناول فرماتے یا پانی پیتے تو بعد میں یہ دعا پڑھتے۔سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور مسلمان ( یعنی اطاعت شعار ) بنایا۔554- حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْن سُحَيمٍ، قَالَ أَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَرَزَقَنَا تَمَرًا، فَكَانَ عَبْدُ اللهِ بن عُمَرَ، يَمُرُ بِنَا وَنَحْنُ نَأْكُلُ، وَيَقُولُ لَا تُقَارِنُوا، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ القِرَانِ، ثُمَّ يَقُولُ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ (بخاری کتاب الاطعمة باب القرآن في التمر 5446) حضرت جبلہ بن سحیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کے عہد خلافت میں ایک سال ہمیں سخت قحط سالی سے دوچار ہونا پڑا۔آپ نے ہمیں کھجوریں دیں۔حضرت عبد اللہ بن عمررؓ ہمارے پاس سے گزرے تو فرمایا اکٹھے بیٹھ کر کھانے لگو تو دو دو کھجوریں ملا کر نہ کھاؤ ( یعنی حرص اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرو) کیونکہ نبی صلی ا ہم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔سوائے اس کے کہ کھانے والا دوسرے شریک طعام بھائی سے اس کی اجازت لے لے۔حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ جَبَلَةَ بْن سُحَيمٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا الشَّمْرَ، قَالَ وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ، وَكُنَّا نَأْكُلُ فَيَمُرُ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ، فَيَقُولُ لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ (مسلم کتاب الاشربة باب نهى الاكل مع جماعة عن قران تمرتين و نحوهما في لقمة۔۔۔3795)