حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 439 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 439

439 حلال و حرام اور کھانے پینے کے آداب 542۔عَنِ الضَّحَاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، وَمَكْحُولُ الشَّامِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَلِيُّ ، وَطَاوُوسُ الْيَمَانِيُّ ، فَاجْتَمَعُوا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ وَكَثُرَ لَعَظهُمْ فِي الْقَدَرِ ، فَقَالَ طَارُوسٌ وَكَانَ فِيهِمْ مَرْضِيًّا : أَنْصِتُوا أُخْبِرُكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيْعُوهَا ، وَخَدَ لَكُمْ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا ، وَنَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا ، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَتَكَلَّفُوهَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكُمْ فَاقْتِلُوهَا۔نَقُولُ مَا قَالَ رَبُّنَا وَنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأُمُورُ بِيَدِ اللهِ مِنْ عِنْدِ اللهِ مَصْدَرُهَا ، وَإِلَيْهِ مَرْجِعُهَا ، لَيْسَ إلَى الْعِبَادِ فِيهَا تَفْوِيضٌ وَلَا مَشِيئَةٌ سنن دار قطنی ، کتاب الصيد والذبائح والاطعمه و غیر ذلک، باب الاكل من آنية المشركين 4814) ضحاک بن مزاحم سے روایت ہے کہ وہ اور حسن بن ابی الحسن اور مکحول شامی اور عمرو بن دینار کی اور طاؤس بمانی مسجد خیف میں اکٹھے ہوئے۔تقدیر کے بارہ میں انکی آوازیں بلند ہوئیں۔طاؤس نے کہا۔اور وہ ان کے پسندیدہ تھے۔خاموش ہو جاؤ۔میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جو میں نے حضرت ابو درداء سے سنا۔انہوں (حضرت ابو در دام) نے کہا کہ آنحضرت صلی الی یکم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں تم انہیں ضائع نہ کرنا اور کچھ حدود مقرر کی ہیں تم ان سے تجاوز نہ کرنا۔اس نے بعض چیزوں سے تم کو روکا ہے۔تم ان کے مر تکب نہ ہونا اور بغیر کسی نسیان یا بھول کے کچھ اشیاء کے بارہ میں وہ خاموش رہا ہے ان کا ذکر نہیں کیا سو تم بلا وجہ تکلف سے کام لے کر ان کے پیچھے نہ 1 : بعض نسخوں میں رضا کا لفظ ہے۔