حدیقۃ الصالحین — Page 438
438 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک کافر رسول اللہ صلی اللی کم کا مہمان ہوا۔رسول اللہ صلی اللی نیلم نے اس کے لئے بکریوں کا دودھ نکلوایا وہ یکے بعد دیگرے سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔دوسرے دن وہ کافر مسلمان ہو گیا۔رسول اللہ صلی ا ہم نے اس کے واسطے ایک بکری کا دودھ نکلوایا۔اس نے وہ پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ نکلوایا تو وہ سارا نہ پی سکا۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا مومن کفایت و قناعت کی وجہ سے اتنا پیتا ہے کہ ایک انتڑی میں سما سکے۔اور کافر حرص کی وجہ سے اتنا کچھ پی جاتا ہے کہ سات انتڑیوں میں سمائے۔(یعنی کھانے پینے میں کفایت کرنا اور قناعت سے کام لینا سچے مومن کا خاصہ ہوتا ہے۔اور کافر کا مقصد زندگی کھانا پینا عیش منانا اور مال و دولت کی حرص ہوتا ہے)۔541ـ عَنْ أَبِي ذَرٍ، قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهِ طَلْقٍ (مسلم کتاب البر والصلة باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء 4746) حضرت ابو ذر بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الی یوم نے مجھے فرمایا نیکی کو حقیر مت سمجھو خواہ تمہارا اپنے بھائی سے کشادہ پیشانی سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔