حدیقۃ الصالحین — Page 440
440 پڑنا کیونکہ اپنی رحمت اور اپنے فضل کی وجہ سے اس نے ان کا ذکر نہیں کیا تا کہ تم پر زیادہ بوجھ نہ پڑے پس خدا کی اس رعایت کو تم خوش دلی سے قبول کرو اور اس کی رحمت کی قدر کرو۔(راوی کہتے ہیں کہ) ہم انہی باتوں کے قائل ہیں جنہیں ہمارے رب اور ہمارے نبی صلی للی کم نے بیان کیا ہے۔اس پر کسی زیادتی کی ضرورت نہیں سمجھتے کیونکہ تمام اختیارات ہمارے رب کے ہاتھ میں ہیں وہیں سے احکام آتے ہیں اور ان کے مال کا مالک بھی وہی ہے۔انسانوں کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی مرضی چلائیں یا اپنی خواہشات کی پیروی کریں۔543- عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْن بَشِيرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الحَلالُ بَيْنَ، وَالحَرَامُ بَيْن ، وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى المُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ: كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ ، أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمِّي، أَلا إِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي أَرْضِهِ فَحَارِمُهُ، أَلا وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً : إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلاَ وَهِيَ القَلْبُ (بخاری کتاب الایمان باب فضل استبر الدينه 52) حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے سنا۔آپ نے فرمایا حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہ والی کچھ باتیں ہیں۔اکثر لوگ انہیں نہیں جانتے۔پس جو اِن مشتبہ باتوں سے بچا، اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو محفوظ رکھنے کے لئے پوری احتیاط سے کام لیا اور جو ان مشتبہ امور میں جا پڑا تو وہ اس چرواہے کی مانند ہے جو اپنار یوڑرکھ کے آس پاس چرارہا ہے۔قریب ہے کہ اس میں ریوڑ جا پڑے۔دیکھو ہر بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے۔خیال رکھنا کہ اللہ کی رکھ اس کی زمین میں اس کی حرام کی ہوئی باتیں ہیں۔خبردار! اور جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے۔اگر وہ ٹھیک ہے تو سارا جسم ٹھیک رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے اور سنو! کہ وہ دل ہے۔