حدیقۃ الصالحین — Page 423
423 حضرت ابو موسی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللی علم کی موجودگی میں یہود جان بوجھ کر چھینک مارتے تاکہ آپ صلی اللہ یکم ان کے حق میں يَرْحَمُكُمُ الله کہہ دیں یعنی اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے۔لیکن حضور ملی ی ام اس وقت کہتے يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ یعنی اللہ تعالیٰ تم کو ہدایت دے اور تمہاری اصلاح کر دے۔529ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ (ترمذی کتاب الدعوات باب ما يقول اذا قام من مجلسه 3433) حضرت ابو ہریرۃا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا یکم نے فرمایا جو شخص کسی ایسی مجلس میں بیٹھا ہو جس میں لغو اور بریکار باتیں ہوتی رہیں اور اس نے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ دعا مانگی کہ اے میرے اللہ تو پاک ہے تیری حمد بیان کرتے ہوئے میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کے اس قصور کو معاف کر دے گا جو اس مجلس میں بریکار اور لغو باتوں میں شامل رہنے کی وجہ سے اس سے سر زد ہوا۔