حدیقۃ الصالحین — Page 424
424 مہمان نوازی اور دعوت کے آداب 530 عَنْ أَبِي هُرَيحِ الْكَعْبِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، جَائِزَتُهُ يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ، الضَّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَمَا بَعْدَ ذلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَقْوِى عِنْدَهُ حَتَّى يُخْرِجَهُ (ابوداؤد کتاب الاطعمة باب ما جاء في الضيافة (3748) حضرت ابو شریح کعبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اُس چاہئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔اُس کی اعلیٰ درجہ کی مہمان نوازی ایک دن رات ہے اور مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے اور جو اس کے بعد ہے تو وہ نیکی ہے۔اور اُس کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اس قدر ٹھہرے کہ اُسے تنگ کر دے۔عن أبي سعيد الخدري، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الخَيَافَةُ ثَلَاتٌ فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ (مسند احمد بن حنبل ، مسند المكثرين من الصحابة ، مسند ابي سعيد الخدری 11345) حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے اور جو اس کے بعد ہے تو وہ نیکی ہے۔