حدیقۃ الصالحین — Page 414
414 512۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ كُنْتُ أَخُذُ بِيَدِ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَانطَلَقْتُ مَعَهُ وَهُوَ مُنصرِفْ إِلَى بَيْتِهِ، فَلَا يَمْرُ عَلَى أَحَدٍ صَغِيرٍ وَلا كَبِيرٍ، مُسْلِمٍ وَلَا نَصْرَانِي، إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى بَابِ دَارِهِ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي، أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَفْشِي السَّلَام (عمل الیوم والليلة ( لابن السني) باب كيف افشاء السلام 216) محمد بن زیاد بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہ باہلی کا ہاتھ مسجد میں پکڑے ہوئے تھا اور وہ گھر کی طرف واپس آرہے تھے راستہ میں چھوٹا بڑا مسلمان، عیسائی جو کوئی بھی ملتا آپ اسے سلام کہتے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے دروازہ پر پہنچ گئے۔یہاں پہنچ کر انہوں نے کہا اے بھتیجے ! ہمارے نبی صلی این کلم نے اس طرح سے سلام پھیلانے کا حکم فرمایا ہے۔513 - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَسَامَةُ بْن زَيْدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا۔۔۔۔۔حَتَّى مَرَّ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاط مِنَ المُسْلِمِينَ وَالمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الأَوْثَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النّبي صلى الله عليه وسلّم۔۔واليهود۔(بخاری کتاب الاستئذان باب التسليم في مجلس فیہ اخلاط من المسلمين و المشركين 6254) حضرت اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی میں کم گدھے پر سوار ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان، مشرکین، بت پرست، یهودسه دسب۔جلے بیٹھے تھے آپ صلی ا یہ کلم نے ان کو السلام علیکم کہا۔علی 514- عدقنا أنس بن مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الكِتَابِ فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ (بخاری کتاب الاستئذان باب كيف يرد اهل الذمة السلام 6258)