حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 415 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 415

415 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی علیم نے فرمایا جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو اس کے جواب میں وعلیکم کہو۔نوٹ :۔یہ دراصل ایسے مخالف کے بارہ میں ہے جو منافق طبع ہو۔مدینہ کے بعض یہود ظاہراً تو سلام کرتے تھے لیکن زبان کو لوچ دیکر السلام علیکم کی بجائے السلام علیکم کہہ جاتے تھے یعنی تم پر موت اور ہلاکت آئے۔اس قسم کے حالات میں یہ ہدایت دی گئی کہ اگر تمہیں اس قسم کی شرارت کا خدشہ ہو تو تم جواب میں صرف و علیکم کہہ دیا کرو یعنی تم پر بھی وہی ہو جو تم ہمارے لئے چاہ رہے ہو۔گھر کے اندر جانے اور اس کے لیے اجازت لینے کے آداب 515 عن ربعِي، قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مَنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتٍ فَقَالَ : أَأَجُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ: اخْرُجْ إِلَى هَذَا فَعَلِمُهُ الاِسْتِئَذَانَ، فَقُلْ لَهُ: قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَأَدْخُلُ؟ فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟ فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ (ابو داؤد کتاب الادب، ابواب السلام ، باب كيف الاستئذان (5177) حضرت ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں کہ بنی عامر کے ایک آدمی نے ہمیں بتایا کہ ایک دفعہ اس نے نبی صلی للی کم سے اجازت مانگی جبکہ آپ صلی للی کم گھر میں تشریف فرما تھے کہ اندر آجاؤں؟ آپ صلی یکم نے اپنے خادم کو کہا جاؤ اور اس سے کہو کہ اندر آنے کی اجازت اس طرح مانگتے ہیں۔پہلے السلام علیکم کہیں، پھر پوچھیں کیا میں اندر آسکتا