حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 281 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 281

281 عابس بن ربیعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اس کو بوسہ دیا اور کہا میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہی ہے ، نہ نقصان دے سکتا ہے نہ نفع اور اگر میں نے نبی صلی للی کم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہو تا تو تجھے ہر گز بوسہ نہ دیتا۔300- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَةِ الْوَدَاعِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ قَالُوا هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ ، قَالَ أَى بَلَدٍ هَذَا قَالُوا بَلَدٌ حَرَامٌ ، قَالَ فَأَيُّ شَهرٍ هَذَا ؟ قَالُوا شَهْرُ حَرَامٌ ، قَالَ إِنَّ أَمْوَالَكُمْ، وَدِمَاءَكُمْ ، وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرُمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي هَبْرِكُمْ هَذَا هُمْ أَعَادَهَا مِرَارًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ مِرَارًا - قَالَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللَّهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّةٌ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَالَ أَلا فَلْيُبَلِّغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِى كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ (مسند احمد بن حنبل ، و من مسند بنی ہاشم ، مسند عبد الله بن عباس بن عبد المطلب 2036) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیم نے حجتہ الو دواع کے موقعہ پر فرمایا اے لوگو! یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا یہ (عرفہ کا ) قابلِ احترام دن ہے۔پھر آپ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ (مکہ کا) قابل احترام شہر ہے۔پھر آپ نے فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا یہ م الله سة (ذی الحجہ کا ) قابلِ احترام مہینہ ہے۔(اس سوال وجواب کے بعد حضور صلی للی یکم نے فرمایا کہ سنو! تمہارے اموال اور تمہارے خون اور تمہاری آبروئمیں اسی طرح قابل احترام اور مستحق حفاظت ہیں اور ان کی ہتک تمہارے لئے حرام ہے۔جس طرح یہ دن یہ شہر اور یہ مہینہ تمہارے لئے قابل احترام اور لائق ادب ہے اور جس کی ہتک تم پر حرام ہے۔حضور نے اس بات کو کئی مرتبہ دہرایا۔پھر آپ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا کیا میں نے پہنچا دیا؟ حضور نے هَلْ بَلَغْتُ کے الفاظ بھی کئی بار دوہرائے۔پھر آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا دیکھو جو یہاں موجود ہیں وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچادیں جو اس موقعہ پر موجود نہیں۔آپ