حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 282 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 282

282 نے یہ بھی فرمایا کہ یادرکھو کہ میرے بعد کا فرنہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھر و( اور خونریزی کا ارتکاب کرنے لگو)۔301 عن عامر أبي رملة، قال أنبأنا يختف بن سليم، قَالَ وَنَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ ابو داؤد کتاب الضحايا باب ماجاء فى ايجاب الاضاحي 2788) حضرت مخنف بن سلیم بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی الی ظلم کے ساتھ عرفات میں وقوف کئے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا اے لوگو! ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے۔302- سَمِعْتُ سَعيد بن مُسَيَّبِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ فِحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هلال فى الحةِ، فَلَا يَأْخُذَنَ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْهَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحَى (مسلم کتاب الاضاحی باب نهى من دخل عليه عشر ذي الحجه 3642) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی ہی کام کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صل الم نے فرمایا جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے وہ قربان کرنا چاہتا ہے تو جب ذی الحجہ کی پہلی رات کا چاند نکل آئے تو جب تک وہ قربانی نہ کرلے اپنے بال اور نائن ہر گز نہ کائے۔