حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 280 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 280

280 حج اور اس کی اہمیت 298ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَ، فَحُجُوا فَقَالَ رَجُلٌ : أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ، وَلَمَا اسْتَطَعْتُم ، قَالَ ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَبَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ (مسلم کتاب الحج باب فرض الحج مرة في العمر 2366) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی علیم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، پس حج کرو۔ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے یہانتک کہ اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے۔پھر آپ نے فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے کچھ نہ کہو یقینا تم سے پہلے لوگ اپنے سوالات کی کثرت کی وجہ سے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔پس جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو جتنی تم میں طاقت ہے اسے بجالاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑ دو۔299ـ عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الحَجَرِ الأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، لَا تَضُرُّ ولا تَنْفَعُ، وَلَوْلاً أَبِي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَتِلُكَ مَا قَتَلْتُكَ (بخارى كتاب الحج باب ما ذكر في الحجر الاسود (1597)