حدیقۃ الصالحین — Page 9
9 درایت درایت سے مراد یہ ہے کہ حدیث عقل سلیم اور واقعات ثابتہ کے مطابق ہو ، ان کے خلاف نہ ہو۔درایت کی جانچ پڑتال کے لیے مندرجہ ذیل اصول قائم کئے گئے ہیں۔1۔حدیث قرآن کریم کے کسی واضح ارشاد اور اسکی صریح نص کے خلاف نہ ہو۔-2 -3 -4 حدیث سنت نبوی اور صحابہ کے اجتماعی تعامل کے خلاف نہ ہو۔حدیث مشاہدہ اور ثابت شدہ واقعہ کے خلاف نہ ہو۔حدیث بدیہات اور عقل صریح کے خلاف نہ ہو۔روایت روایت سے مراد یہ ہے کہ کتاب لکھنے والے کو جن راویوں کے ذریعہ حدیث پہنچی ہے وہ کون کون سے ہیں، کتنے ہیں اور امانت و دیانت ، حفظ و ذہانت میں ان کا معیار کیا ہے ، اس لحاظ سے احادیث کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں۔سند سند سے مراد حدیث بیان کرنے والے راویوں کا وہ سلسلہ ہے جس کے ذریعہ حدیثیں جمع کرنے والے یا کتاب لکھنے والے امام تک یہ حدیث پہنچی ہے مثلاً حديث إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِيَّاتِ کی سند جو امام بخاری نے اپنے کتاب میں بیان کی ہے درج ذیل ہے۔حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْن وَقَاصِ اللَّيْهِيَ يَقُولُ سَمِعْتُ