حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 8 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 8

8 احادیث رسول سے انکار کا سوائے اس کے کوئی مفہوم نہیں کہ یا تو ایسے لوگوں کی عقل میں فتور ہے یا پھر وہ دین سے آزادی کے خواہاں ہیں اور من مانی کرنا چاہتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ بعض مصالح کی وجہ سے شروع میں احادیث کے لکھنے اور کتاب کی شکل میں انہیں مدون کرنے کا اجتماعی اہتمام صحابہ نے اس طرح نہیں کیا جس طرح کا اہتمام قرآن کریم کے لکھنے اور مختلف علاقوں میں اس کی مستند نقول بھجوانے کا کیا ہے اور اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ تانئے مسلمان ہونے والے کے لیے کوئی غلط فہمی کی صورت پیدا نہ ہو اور وہ نا سمجھی سے کسی حدیث کو قرآن کریم کی آیت ہی نہ سمجھ لیں۔لیکن اس کے باوجود انفرادی طور پر متعدد صحابہ احادیث کو زبانی یاد رکھنے کے علاوہ لکھ بھی لیتے تھے اور یہ صحائف اپنے پاس محفوظ رکھتے اور بوقت ضرورت لوگوں کے سامنے انہیں بیان کرتے۔یہی حال تابعین کا تھا انتہائی شوق اور پوری توجہ سے وہ ارشاداتِ رسول اللہ صلی اللی علم کا علم حاصل کرتے اور پھر دوسروں تک انہیں پہنچاتے۔تبع تابعین کے زمانہ تک تو علم حدیث کے حصول کا شوق ساری مملکت اسلامی میں عام ہو چکا تھا اور ہر گھر میں حدیث رسول کا چرچا تھا۔بڑے بڑے ائمہ حدیث پیدا ہوئے۔حضرت امام حسن بصری، سعید بن المصيب سعید بن جبیر، ابن شہاب زہر گی، امام شعبی ، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ اور حضرت امام مالک کی جلالت شان اور خدمت حدیث کے عظیم الشان کام سے کون انکار کر سکتا ہے۔ان ائمہ حدیث کے بعد ان کے شاگردوں نے اس علم میں اور اضافہ کیا۔علم حدیث اور جمع احادیث کے لیے مختلف ممالک کے سفر اختیار کئے ہر جگہ پھرے اور احادیث کے عظیم الشان مجموعے مرتب کر کے انہیں کتابی شکل دی۔انہیں مجموعوں میں سے حضرت امام احمد بن حنبل" کی بے نظیر کتاب ”مند احمد “ ہے جو چالیس ہزار احادیث پر مشتمل ہے۔اس کے بعد اور آئمہ آئے جنہوں نے صحت وضعف کے اعتبار سے احادیث کی چھان بین کی ، ان کا انتخاب کیا اور ایسے عمدہ مفید مجموعے مرتب کئے جن میں مضامین کی ترتیب کو بھی مد نظر رکھا گیا اور ساتھ ہی صحت احادیث کے معیار کو بھی پوری محنت اور دقت نظر کے ساتھ ملحوظ رکھا گیا جیسے حضرت امام بخاری کی کتاب ”صحیح بخاری“ اور امام مسلم کی کتاب ” صحیح مسلم " ہے۔اس زمانے میں صحت حدیث کے پر کھنے کے بھی اصول مرتب ہوئے اور طے پایا کہ کسی حدیث کو مستند اور صحیح قرار دینے کے لیے درایت اور روایت کے اصولوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔دو