حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 10 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 10

10 عمر بن الخطابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ انما الأَعْمَالُ بِالبَيَاتِ اس مثال میں حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ سے لے کر قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پھوٹی تک کی عبارت سند کہلاتی ہے اور حدیث ائما کے لفظ سے شروع ہوتی ہے۔سند کے اعتبار سے حدیث کی اقسام۔1 مرفوع: وہ حدیث ہے جس کی سند میں حدیث کی نسبت آنحضرت علی ایم کی طرف کی گئی ہو مثلاً راوی کہے کہ میں نے آنحضرت صلی علیم سے یہ سنا، یا آپ نے یہ فرمایا، یا آپ نے یہ کیا۔جیسا کہ اوپر کی۔2 الله مثال میں امام بخاری کی بیان کر دہ حدیث مرفوع ہے۔متصل : وہ حدیث جس کی سند میں تسلسل ہو وہ ٹوٹی ہوئی نہ ہو، یعنی در میان سے کوئی راوی رہ نہ گیا ہو۔اس کی مثال بھی اوپر کی حدیث ہے جو امام بخاری نے روایت کی ہے گویا اس حدیث کی سند مرفوع بھی ہے اور متصل بھی۔۔3 مُرسل: وہ حدیث جس کی سند میں صحابی کا ذکر نہ ہو مثلاً ایک تابعی کہے کہ آنحضرت ملی ہم نے ایسا فرمایا یا ایسا کیا۔نقطع : وہ حدیث جس کی سند میں صحابی کی بجائے کوئی اور راوی رہ گیا ہو اور سند کا تسلسل ٹوٹ گیا ہو۔راویوں کی تعداد کے اعتبار سے احادیث کی اقسام۔1 متواتر : وہ حدیث جو واضح المعنے ہو اور اسے بیان کرنے والے اتنے زیادہ لوگ ہوں کہ عقل ان سب کو جھوٹا سمجھے کے لیے تیار نہ ہو۔1: بخاری کتاب الایمان باب الایمان و قول النبی ﷺ نبی الاسلام على خمس 1