حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 7 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 7

7 ذریعوں سے رہنمائی حاصل نہ کر سکا تو آپ کے فیض صحبت میں جو دینی تربیت پائی ہے اس کی روشنی میں اپنی سے مشکل کو حل کروں گا۔آپ نے حضرت معاذ کی اس وضاحت پر اطمینان کا اظہار فرمایا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے آپ کے مقرر کردہ افسر کی صحیح رہنمائی فرمائی ہے۔(مسند احمد بن حنبل، مسند الانصار ، مسند رائے اور اجتہاد سے معاذ بن جبل، 22357) رض الله سة ہم اس اہم مسئلہ پر ایک اور نقطہ نظر سے بھی غور کر سکتے ہیں جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں آنحضرت صلی الم کے دو کام تھے ایک تو کلام الہی یعنی قرآن پاک کو پہنچانا، پڑھانا اور سکھانا اور دوسرے اس کی تبیین و تفسیر۔گویا آپ کا منصب رسول کا بھی تھا اور مبین اور مفسر کا بھی۔قرآن کریم چونکہ بنیادی ذریعہ تعلیم دین تھا اس لیے علاوہ زبانی تعلیم کے آپ نے اس کے لکھنے کا بھی مکمل اہتمام فرمایا۔پھر صحابہ نے اس کلام پاک کی حفاظت کا حق ادا کیا اور اپنی اس اہم ذمہ داری کو ایسے شاندار طریق سے نبھایا کہ دنیا عش عش کر اٹھی اور حیرت سے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں تو کیا ایسی فرض شناس قوم سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ آنحضرت صلی علیکم کے دوسرے اہم کام یعنی آپ کے ارشادات و اقوال کو ضائع اور فراموش کر دے گی اسکی حفاظت اور آگے امت مرحومہ تک اسے پہنچانے کا کوئی اہتمام نہیں کرے گی۔جس سے معمولی سی بھی محبت ہوتی ہے انسان اس کی ہر بات کو نہ صرف یاد رکھتا ہے بلکہ ہر ایک کو سناتا پھرتا ہے۔تو کیا وہ جاں نثار صحابہ جنہوں نے اپنے آقا اپنے ہادی علیہ الصلوۃ والسلام سے ایسی محبت کی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی ، ان سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے محبوب کی پیاری باتوں کو بے اعتنائی اور لا پرواہی کی نظر کر دیں گے اور لوگوں کو سنانے کا کوئی اہتمام نہ کریں گے۔پھر اگر صحابہ نے آپ کی باتیں ایمان لانے والوں کو سنائیں، آگے پہنچائیں اور کسی قسم کی غفلت اور لاپر واہی سے کام نہیں لیا تو آخر وہ باتیں کہاں گئیں ؟ سوائے سنت و حدیث کے کوئی کتاب ملفوظات اس دنیا میں موجود نہیں جس میں سرور کائنات صلی ایم کے ارشادات اور آپ کی پیاری باتیں درج ہوں۔پس سنت و حدیث کا انکار دراصل وہی لوگ کر سکتے ہیں جو یا تو آپ کے اس منصب کو نہیں جانتے کہ آپؐ مبلغ قرآن ہونے کے علاوہ مُبین قرآن بھی ہیں اور رسول کی حیثیت سے یہ دونوں منصب آپ کو حاصل ہیں اور یا پھر وہ سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے تنبیین قرآن کے فریضہ کو ادا ہی نہیں کیا۔یا صحابہ نے العیاذ باللہ اپنے فرض کو نہیں پہچانا اور آپ کے اقوال وارشادات کو ضائع کر دیا اور امت تک ان کے پہنچانے کا کوئی اہتمام نہیں کیا۔جب یہ تینوں باتیں بالہداہت غلط ہیں تو پھر الله سة