حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 6 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 6

6 انکی طرف نازل کیا گیا ہے کھول کر بتائے اور تاکہ وہ اس پر تدبر کریں۔“ پس حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے کلام الہی کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اپنے قول اور فعل سے اس کی جو تشریح و تفسیر فرمائی وہ امت کے لیے اسی طرح واجب العمل ہے جس طرح قرآن کریم کی اتباع اور فرمانبر داری واجب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وو مَا أَتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَبُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا (الحشر 8) ر سول جو کچھ تم کو دے اس کو لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ“ اس آیت کریمہ سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ آنحضرت صلی علم کا ہر فعل اور ہر قول جس کا تعلق دین کی توضیح و تشریح سے ہے واجب التسلیم ہے اور اس کی اطاعت اور اسکے مطابق عمل کرنا امت مسلمہ پر فرض ہے آنحضرت علی ایم کے صحابہ کرام جو کاشانہ نبوت کے تربیت یافتہ ، دین اسلام کے امین ، اور تبلیغ قرآن کے ذمہ دار تھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے افعال وارشادات کی یہی حیثیت سمجھتے تھے ، سنت کی پیروی ان کا جزو ایمان تھا اور وہ آپ کے ارشادات کا علم حاصل کرنا باعث نجات جانتے تھے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علم کی وفات کے بعد جب بھی کوئی اہم معاملہ ان کے سامنے آتا تو وہ قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کرتے اگر انہیں اس پاک کلام میں کوئی وضاحت نہ ملتی تو آنحضرت صلی لی ایم کے ارشاد کے متعلق استفسار کرتے جب انہیں معتبر اور مستند ذرائع سے علم ہو جاتا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی ارشاد اس بارہ میں موجود ہے تو وہ اسے بسر و چشم قبول کرتے اور اپنی رائے پر عمل کرنے کو گمراہی اور ضلالت سمجھتے ، یہاں تک کہ جب کوئی مقتدر صحابی کسی اہم معاملہ میں نص کا علم نہ ہو سکنے کی وجہ سے اپنی رائے اور اجتہاد سے کوئی فیصلہ کرتا اور بعد میں اسے معلوم ہوتا کہ آنحضرت صلی الی یوم نے بھی ایسا ہی ارشاد فرمایا ہے تو اسے اتنی خوشی اور مسرت حاصل ہوتی جیسے دنیا کے عظیم الشان خزانے اسے مل گئے ہیں اور بہت بڑی نعمت سے اسے نوازا گیا ہے ( دیکھیں حدیث نمبر 672) خود آنحضرت علی الم نے جب حضرت معاذ بن جبل کو یمن کا والی بنا کر بھیجا تو آپ نے اس سے پوچھا معاملات کس طرح طے کرو گے ؟ انہوں نے عرض کیا قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلے دیا کروں گا اور اگر ہدایت کے ان دو