حدیقۃ الصالحین — Page 5
5 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ حدیث اس کی اہمیت اور ضرورت سید ولد آدم فخر المرسلین خاتم النبيين رسول مجتبی محمد مصطفی صلی الی یکم کو اللہ تعالیٰ نے چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا، آپ پر اپنا کلام نازل کیا جو قرآن کریم کی شکل میں مسلمانوں کی مقدس ترین کتاب کی حیثیت میں دنیا میں موجود ہے۔آنحضرت صلی للی کام کے دو کام تھے۔اول ، اللہ تعالیٰ کے پیغام کی تبلیغ جس کی طرف مندرجہ ذیل آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ تبلغ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ ذِيكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ (المائدة 68) ”اے رسول تیرے رب کی طرف سے جو ( کلام بھی) تجھ پر اتارا گیا ہے اسے (لوگوں تک پہنچا اور اگر تو نے (ایسا) نہ کیا تو (گویا) تو نے اس کا پیغام (بالکل) نہیں پہنچایا۔“ آنحضرت صلی علیکم کا دوسرا کام کلام الہی یعنی قرآن کریم کی تبیین اور تفسیر ہے جو سنت و حدیث کی الله سة صورت میں مدون اور امت محمدیہ صلی علیم میں مقبول و مشہور ہے۔قرآن کریم کی آیت ذیل میں حضور کی اسی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے وو وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الليكُرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (النحل 45) اور تجھ پر ہم نے یہ ( کامل ) ذکر نازل کیا ہے تاکہ تو سب لوگوں کو وہ ( فرمان الہی) جو (تیرے ذریعہ سے )