حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 143 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 143

143 لِبَنِيهِ أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ ؟ قَالُوا خَيْرَ أَبِ، قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَدِرُ - أَوْ لَمْ يَبْتَئِزُ - عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، وَإِنْ يَقْدِرِ اللَّهُ عَلَيْهِ يُعَذِّبْهُ، فَانْظُرُوا إِذَا مُتُ فَأَحْرِقُونِي حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَمَا فَاسْحَقُونِي أَوْ قَالَ فَاسْتَحَكُونِي - فَإِذَا كَانَ يَوْمُ رِيحٍ عَاصِفٍ فَأَذْرُونِي فِيهَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَرَبِّي فَفَعَلُوا، ثُمَّ أَذْرَوْهُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُنْ، فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ قَائِمٌ، قَالَ اللهُ أَى عَبْدِى مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ ؟ قَالَ مَخَافَتُكَ، - أَوْ فَرَةٌ مِنْكَ - قَالَ فَمَا تَلافَاهُ أَن رَحِمَهُ عِنْدَهَا وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى فَمَا تلافاهُ غَيْرُهَا (بخاری کتاب التوحید باب قول الله تعالى يريدون أن يبدلوا كلام الله 7508) ابو سعید نے نبی صلی علیم سے روایت کی کہ آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو ان لوگوں میں سے تھا جو پہلے گزر چکے۔یا فرمایا جو تم سے پہلے تھے آپ نے ایک فقرہ بولا۔جس کے یہ معنی تھے کہ اللہ نے اس کو مال اور اولا د دی تھی۔جب وفات کا وقت آن پہنچا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا میں تمہارا باپ کیسا تھا؟ انہوں نے کہا بہت اچھے باپ تھے۔اس نے کہا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی بھی نہیں بھیجی ہے اور اگر اللہ نے اس پر قابو پایا تو اس کو سزا دے گا۔اس لئے دیکھو جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دو یہاں تک کہ جب میں کو ئلہ ہو جاؤں تو مجھے پیس ڈالنا۔جس دن زور کی آندھی ہو تو اس آندھی میں تم میری راکھ اڑا دینا۔نبی صلی الیم نے فرمایا میرے رب کی قسم اس نے اس بات پر پختہ عہد لئے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔پھر آندھی کے دن اس کی راکھ اڑا دی۔تو اللہ عز و جل نے فرمایا گن (ہو جا) پھر کیا تھا کہ وہی شخص کھڑا تھا۔اللہ نے پو چھا اے میرے بندے ! یہ جو تم نے کیا ہے اس کے کرنے پر تمہیں کس نے آمادہ کیا ؟ اس نے کہا تیرے خوف نے یا کہیا گھبراہٹ نے جو تیرے ڈر سے تھی۔راوی نے کہا اس پر ( اللہ نے ) جلدی ہی اپنی رحمت سے اس کے گناہوں کی تلافی کی اور دوسری بار راوی نے کہا اس بات کے سوا اور کسی بات نے بھی اس کے گناہوں کی تلافی نہ کی (اسے بخش دیا)۔