حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 142 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 142

142 بندے کو علم ہو چکا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشا بھی ہے اور اس پر پکڑتا بھی ہے۔میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا وہ ٹھہر ارہا۔پھر ایک اور گناہ کیا۔اے میرے رب ! میں نے ایک اور گناہ کیا میری پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے در گزر فرما۔تو پرودگار نے فرمایا کیا میرے بندے کو علم ہو چکا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔میں نے اپنے بندے کو تین بار معاف کر دیا اب جو چاہے کرے۔115۔عن ابن عمر رضی الله عنهما ، قَالَ سَمِعْتُ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول يُدنَى الْمُؤْمِنُ يَوْمَ القِيَامَة مِنْ رَبِّهِ حَتَّى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ، فَيُقَرِرُهُ بِذُنُوبِهِ، فيقولُ أتعرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ أَتَعرِفُ ذَنْبَ كَذَا ؟ فيقول رَبِ أَعْرِفُ، قَالَ فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ في الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ اليَومَ ، فَيُعْطَى صَحِيفَةً حَسَنَاتِهِ (رياض الصالحين باب الرجاء (433) حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی للی کم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔قیامت کے دن مومن اپنے رب کے بہت قریب لے جایا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کے سایہ رحمت میں آجائے گا پھر اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروائے گا اور کہے گا کہ کیا تو فلاں گناہ جانتا ہے جو تو نے کیا ؟ کیا تو فلاں گناہ کو جانتا ہے جو تو نے کیا؟ اس پر بندہ کہے گا ہاں میرے رب ! میں جانتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا دنیا میں میں نے اس گناہ کے متعلق تیری پردہ پوشی کی اور اب قیامت کے دن تمہار اوہ گناہ بخشتا ہوں۔الغرض اس کو صرف اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دے دیا جائے گا۔116- عن أبي سَعِيدٍ، عَنِ الذين صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنه ذكر رَجُلًا فيمن سلف - أو فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، قَالَ كَلِمَةً يَعْنِي - أَعْطَاهُ اللهُ مَالًا وَوَلَدًا، فَلَمَّا حَضَرَتِ الوَفَاةُ، قَالَ