ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 46
N4 اضاف نے دن اور ہم کے وجوب میں ایک حدیث بطور دلیل پیش کی ہے اور وہ یہ ہے : عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آلَهُ قَالَ لَا مَهْرَ باقل مِنْ عَشْرَةِ دَرَاهِمَ له ابن رشد کہتے ہیں کہ اگر یہ روایت ہر لحاظ سے درست ثابت ہو جائے تو صرف اس روایت سے تمام نزاع ختم ہو جاتا ہے۔اور اس حدیث کی موجودگی میں ہم یہ کہیں گے کہ سهل بن سعد کی حدیث اس شخص کے لئے خاص ہے۔مگر افسوس ہے کہ محدثین کے نزدیک جابہر کی مندرجہ بالا روایت ضعیف ہے کیونکہ اس روایت کو مبشر بن عبید نے حجاج بن ارطاط سے اس نے عطاء سے اور اس نے جابر سے بیان کیا ہے۔اور مبشر اور حجاج دونوں ضعیف ہیں اور عطار کی ملاقات جابر سے ثابت نہیں۔لہذا ان وجوہات کی بنا پر یہ روایت سہل بن سعد کی صحیح روایت کے معارض نہیں ہوسکتی۔حق مہر کی جنس ہر وہ چیز جس کی ملکیت جائز ہے یا وہ کسی چیز کا عوض بن سکے۔وہ حق مہر میں ادا ہو سکتی ہے۔اس مسئلہ میں دو جگہ اختلاف کیا گیا ہے۔اول :- جب نکاح کسی اجازہ کے عوض میں ہو۔دوم :- جب اپنی لونڈی کی آزادی کو اس کا ہر قرار دیا جائے تو صورت اول میں فقہاء کے تین اقوال بیان کئے گئے ہیں۔(۱) جائزہ (۲) نا جائز۔(۳) مگر وہ امام مالک کا مشہور مذہب یہ ہے کہ یہ مکروہ ہے چنانچہ ان کے نزدیک اگر تعلقات زوجیت قائم نہ ہوئے ہوں تو ایسا نکاح قابل فسخ ہے۔کے ترجمہ : حضرت جابر نے آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ دس درہم سے کم حتی مہر نہیں ہونا چاہئے۔دوار قطني بحواله نصب الراية جلد 19) ے یعنی جب کوئی یہ شرط کرے کہ تم ہمارا اتنی مدت یا اتنا کام کر دو تو تمہاری خدمت یا کام بطور حق مہر سمجھے لیا جائے گا۔