ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 45 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 45

۴۵ سے ایک عضو کو مباح کیا جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ یہ مقدار کم از کم اتنی ہو جتنی می عضو کے جُدا کرنے کے لئے شریعت نے بیان کی ہے لیکن یہ قیاس ضعیف ہے۔حق مہر اور مال مسروقہ میں کوئی بھی مشابہت نہیں کیونکہ ان دونوں کے درمیان معنی اور مقصد کا اشتراک تو الگ رہا۔اہم کا اشتراک بھی پایا نہیں جاتا۔کیونکہ ایک جگہ مال چوری کرنے کے نتیجہ میں سزا کے طور پر عضو کاٹا جاتا ہے تو دوسری جگہ مال دیکر تعلقات زوجیت کا قیام مقصود ہوتا ہے۔اسی طرح عضو کاٹنا سرا اور سرزنش کے لئے ہے اور حق مہر باہمی الفت کے لئے ہے۔پس اس قیاس میں نہ تو کوئی لفظی مشابہت پائی جاتی ہے نہ معنوی۔لہذا یہ قیا کسی کسی طرح بھی درست نہیں۔اگر چہ اس کے قائلین نے اس کو حدیث کے مقابلہ میں مقدار اور حد کے ثبوت کے لئے پیش نہیں کیا بلکہ مقدار کی تعیین کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔لیکن کچھ بھی ہو اس قیاس میں کوئی جان نہیں اور بالکل ضعیف اور کمزور ہے۔عدم تحدید کے سلسلہ میں امام ترمذی نے ایک روایت ان الفاظ میں بیان کی ہے أَنَّ امْرَأَةٌ تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَرَضِيْتِ مِنْ نَفْسِكَ وَمَالِكِ بِنَحْلَيْنِ فَقَالَتْ نَعَمْ فَجَرَّزَ نِكَا حَهَا وَقَالَ هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيح له بعض فقہاء نے سرقہ کے نصاب کے مطابق حق مہر کی تحدید کی ہے۔لیکن خود سرقہ کے نصاب میں بھی اختلاف ہے۔چنانچہ امام مالک کے نزدیک سرقہ کا نصاب دینا ر ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک دس درہم ہے۔ابن شہرمہ کے نزدیک پانچ ومهم ہے لہذا ان سب کے نزدیک حق مہر کی قلیل مقدار بھی اسی کے مطابق ہے۔کے ترجمہ : ایک عورت نے ایک جوڑا جوتے کے عوض اپنا نکاح کیا تو اسے رسول اللہ نے فرمایا کہ کیا تم اپنے نفس اور اپنے مال کے عوض جوتے کا ایک جوڑا بطور حق مہرے کر راضی ہو گئی ہو۔اس نے کہا ہاں یا رسول اللہ اس پر آپ نے اس کے نکاح کو جائز قرار دے دیا۔امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔(ترمذی باب في جهور النساء )