ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 47 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 47

۴۷ امام مالکان کے اصحاب میں سے امین اور سمنون اسے جائز قرار دیتے ہیں اور یہی امام شافعی کا قول ہے۔ابن قاسم اور امام ابو حنیفہ اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں البتہ غلام کے متعلق ان کا مذہب یہ ہے کہ وہ اپنا حق مہر اجارہ پر ادا کر سکتا ہے۔اس اختلاف کے دو اسباب ہیں۔اول :- کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کی شریعت ہمارے لئے حجت ہے یا نہیں ؟ وہ لوگ جو پہلی شریعت کو قابل حجت قرار دیتے ہیں وہ قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔کہ أنّى أُرِيدُ انْ أُنْكِحَكَ إحْدَى ابْنَتَى هَاتَيْن عَلَى أَنْ تَا جُرَنِي ثَمَانِي حِجَجٍ جو لوگ یہ کہتے کہ پہلی شریعت ہمارے لئے حجت نہیں ہے وہ نکاح علی الاجارہ کو جائز قرار نہیں دیتے۔دوم :۔اس اختلاف کا دوسرا سبب یہ ہے کہ کیا نکاح کو اجارہ پر قیاس کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔در حقیقت اجارہ دھوکے کی بیوع میں سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ ہر وہ بیچ جس کا ایک عوض معین نہ ہو اس کو دھوکے کی بیچ قرار دیا جاتا ہے۔کیونکہ اس میں جھگڑے کا احتمال ہے۔اجارہ میں ایک حوض معین ہوتا ہے (یعنی اجرت) لیکن دوسرا عوض غیر معین ہوتا ہے یعنی مزدور کے افعال اور حرکات۔چونکہ دنیا کے کام بغیر اجارہ کے چل نہیں سکتے اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اس لئے اسے دھوکے کی بیوع سے ستشنی قرار دیا گیا ہے۔اے میں چاہتا ہوں کہ اس شرط پر اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تجھ سے کردوں کہ تو آٹھ سال تک میری خدمت کرے۔(قصص ۳۶)