ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 36
ازدواجی تعلقات قیام یا دم قیام کے متعلق جو اختلاف بیان ہوا ہے اس کی بنیاد ایک روایت اور ایک قیاس پر ہے۔روایت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَيُّمَا امْرَأَةٍ أَنَكَحَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْاَوَّلِ مِنْهُمَانه اس روایت میں عمومیت ہے یعنی اس میں یہ تخصیص نہیں کی گئی کہ دوسرے نے ازدواجی تعلقات قائم کئے ہیں یا نہیں۔پس اس عمومیت کی بنا پر ان دونوں صورتوں میں پہلے ولی کا نکاح بحال رہے گا۔جو فقیہہ یہ کہتے ہیں کہ اگر دوسرے خاوند نے تعلقات زوجیت قائم کرلئے ہوں تو اس کا نکاح بحال ہوگا ان کی قیاسی دلیل یہ ہے۔کہ یہ نکاح اس مکروہ بیع کے مشابہ ہے جس میں خرید شدہ مال ضائع ہو جائے۔اس صورت میں بیع مکروہ بحال رہتی ہے ایسا نکاح بھی جبکہ تعلقات زوجیت قائم ہو چکے ہوں۔ضائع شدہ مال کے قائمقام قرار دیکر بحال سمجھا جائے گا۔لیکن ابن رشد کے نزدیک یہ قیاس ضعیف ہے۔اگر یہ علم نہ ہو کہ پہلے کس ولی نے نکاح کیا ہے تو اس صورت میں جمہور کا مذہب یہ ہے کہ دونوں نکاح فسخ ہوں گے۔امام مالک کے نزدیک صرف اس صورت میں ہوں گے جبکہ ان دونوں میں سے کسی نے تعلقات زوجیت قائم نہ کئے ہوں۔لیکن قاضی شریح کے نزدیک جس کو عورت اختیار کرے اس کا نکاح بحال رہے گا۔دوسرے کا فتح ہو جایا گیا را اور یہی حضرت عمر بن عبد العزیز کا مذہب بیان کیا گیا ہے۔اولیاء کا زوجین کو نکاح سے سوکھا اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ ولی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ لڑکی کو ایسے نکاح ترجمہ: وہ عورت جس کا نکاح دو ولی دو جگہ کر دیں تو اس کا پہلا خیار درست ہوگار ابوداود کتاب النکاح باب اذا انکے الولیان ) یہ مذہب درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ نکاح کے بارہ میں اصل چیز تو عورت کی رضامندی ہے اگر اسکی مرضی کے بغیر دوسری جگہ نکاح کر بھی دیا جائے تب بھی عورت کو شیخ نکاح یعنی ضلع کا حق دیا گیا۔پس ایسی صورت میں کیوں نہ وہ طریق اختیار کیا جائے جس سے کوئی ایسی پیچیدگی پیدانہ ہو جس کی وجہ سے کسی فریق کو نقصان پہنچے۔