ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 37 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 37

سے روکے جو وہ کفو میں کرنا چاہتی ہو اور مناسب مہر کے عوض کرنا چاہتی ہو اگر ولی اس میں روک پیدا کرنے کی کوشش کرے تو لڑکی کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملہ کو حاکم وقت کے پاس پیش کر کے انصاف حاصل کرے۔اسی طرح اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر ولی لڑکی کا نکاح جبراً کسی ایسی جگہ کرنا چاہتا ہے جہاں وہ پسند نہیں کرتی تو وہ اس سے انکار کر سکتی ہے۔اسی طرح اس میں بھی اختلاف نہیں ہے کہ جب با کرہ لڑکی کو اس کا باپ کسی شرابی یا فاسق سے بیا بنا چاہے تو لڑکی اپنے آپ کو اس نکاح سے روک سکتی ہے۔اور اگر وہ جبر کرے تو حاکم وقت اس بارہ میں غور کر کے ان کے درمیان تفریق کر سکتا ہے اسی طرح اس شخص نے نکاح کا بھی یہی حکم ہے جو حرام مال کماتا ہو اور طلاق کے متعلق بہت قسمیں کھانے والا ہو۔حسب نسب - حریت میسر اور صحت کے متعلق اختلاف ہے کہ یہ اوصاف بھی گفو میں شمار ہوتے ہیں یا نہیں۔امام مالک کے نزدیک غلام کا نکاح عربی سے ہو سکتا ہے۔اور وہ اس بارہ میں آیت کریمہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ الله انفیکفر سے استدلال کرتے ہیں لیکن سفیان ثوری اور احمد کے نزدیک عربی عورت کا نکاج غلام سے ناجائز ہے۔امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے نزدیک قریشی کا قریضی عورت اور عربی کا عربی عورت سے ہی نکاح ہو سکتا ہے اس کے خلاف نہیں۔اس اختلاف کا سبب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کی تشریح میں اختلاف کی بنا پر ہے۔اور وہ یہ ہے تُنكَحُ المَرْآةُ لِدِينِهَا وَجَمَالِهَا وَمَالِهَا وحَسْبِهَا فَاظُفَرُ بِذَاتِ الدين تربت يمينك " اس روایت کی ے کفر سے مراد اس جگہ برابری اوپر درجہ میں مساوات ہے۔ے یعنی ایسا شخص جو ہر بات میں قسم کھائے کہ میں تمہیں طلاق دے دونگا۔سے عورت کا نکاح اس کے دین کی وجہ سے کیا جاتا ہے یا اس کے جمال یا مال یا حسب نسب کی وجہ سے پس اے مخاطب خدا تیرا بھلا کرے۔تم دیندار عورت سے نکاح کرو۔(ابو داؤد کتاب النکاح با پ ا ومربہ من تنز و بج ذات المدين )۔