ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 21 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 21

۲۱ میں مندرجہ ذیل آیات سے استدلال پیش کرتے ہیں۔دا) وَالَّذِينَ يُتَوَقَوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ارْبَعَةٌ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ اس آیت میں بیوہ عورت کو اپنے نکاح کے متعلق از خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور اگر عورتیں مناسب کفو میں خود بخود نکاح کرلیں تو ان کے اس فعل کو جائز قرار دیا گیا ہے۔متعدد آیات میں فعل نکاح کی نسبت عورتوں کی طرف کی گئی ہے۔جیسے آیت آن يَنْكِحُنُ أَزْوَاجَهُنَّ میں اور آیت حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیر ہیں۔پس اگر نکاح کا اختیار عورتوں کو حاصل نہ ہوتا تو فعل نکاح کی نسبت ان کی طرف نہ کی جاتی۔بلکہ اولیاء کی طرف ہی کی جاتی۔احادیث میں سے ابن عباس کی روایت اس فریق کی بنیادی دلیل ہے۔اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ الام احق بِنَفْسِهَا مِن وَلِيّهَا وَالبَكَرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَاِذْ نَهَا مُا تُهَا۔یہی وہ روایت ہے جس سے داؤ د ظاہری نے بارہ در شیبہ میں فرق کیا ہے یعنی شیبہ بغیر ولی کے نکاح کر سکتی ہے۔اور باکرہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی۔ابن رشد کا محاکمہ ابن رشد ان ہر دو مذاہب پر اپنی طرف سے محاکمہ پیش کرتے ہیں۔چنانچہ سب سے له ترجمہ: اور تم میں سے جن لوگوں کی روح قبض کرلی جاتی ہے۔اور وہ اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن تک روک رکھیں پھر جب وہ اپنا مقررہ وقت پورا کر ہیں تو وہ اپنے متعلق مناسب طور پر جو کچھ بھی کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالے اس سے واقف ہے (البقرہ (ع۳۰) لہ اس جگہ کھو سے مراد معیار زندگی کے لحاظ سے ہم پلہ ہوتا ہے ترجمہ: کہ وہ اپنے خاوندوں سے راپنی مرضی سے) نکاح کرلیں۔(البقرہ (ع۳۰) کہ ترجمہ :۔یہانتک کہ وہ اس کے سوا کسی دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح کرلے۔(البقرہ ع۲۹) و