ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 22 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 22

۲۲ پہلے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو نا جائز قرار دینے والوں پر مندرجہ ذیل تنقید کرتے ہیں اول :- جولوگ آیت فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوتا۔ان کا یہ استدلال درست نہیں۔کیونکہ یہ استدلال نہ تو بطور دلیل خطاب ہے اور نہ بطور نص صریح۔بلکہ اس کے برعکس اس آیت سے تو یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اولیاء کو ان عورتوں کے نکاح کے بارہ میں کسی قسم کا دخل ہی نہیں ہے۔اسی طرح آیت وَلَا تَنْكِحُوا المُقرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا میں بھی خطاب اولیاء کی بجائے جمیع مسلمین یا اولی الامر کے لئے زیادہ قرین قیاس ہے۔یا زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس خطاب میں اولیاء نکاح اور اولی الامردونوں کا احتمال ہے۔یعنی ہو سکتا ہے کہ یہ خطاب اولیاء نکاح کو ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے مخاطب اولی الامر ہوں۔اب یہ ان لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ثابت کریں کہ اس میں اولیا، نکاح کو خطاب کیا گیا ہے اولی الامر کو نہیں یا یہ کہ اس میں اولی الامر کی نسبت اولیاء کو خطاب زیادہ قرین قیاس ہے دوم : اگر یہ کہا جائے کہ اس آیت میں حکم عام ہے اور اس میں اولیاء اور اولی الامر دونوں شامل ہیں تو ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ اس خطاب میں ایک شرعی تصرف سے روکا گیا ہے۔نہیں اس میں اولیاء اور غیر اولیاء دونوں کی حیثیت مساوی ہوگئی اور اولیاء کی ولایت کی خصوصیت نہ رہی بلکہ اس حکم میں اجنبی بھی شامل ہو گئے۔سوم۔اگریہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس آیت میں اولیار کو ہی خطاب کیا گیا ہے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ صحت نکاح کے لئے اولیاء کی اجازت ضروری ہے تو ہم کہینگے کہ یہ ایک معیل حکم ہے جس پر عمل کرنا دشوار ہے۔کیونکہ اس آیت میں اولیاء کی اقسام اوصاف یا مراتب کا بیان موجود نہیں ہے۔حالانکہ جب ضرورت موجود ہے تو پھر تفصیلات کا بیان نہ کرنا کسی صورت میں بھی درست نہیں۔چہارم : اگر یہ کہا جائے کہ اولیاء کی اقسام اور اوصاف وغیرہ بیان کرنے کی ضرورت a1 یعنی حکامم