ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 20 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 20

وہ فقہاء جو صحت نکاح کے لئے ولی کی شرط ضروری قرار نہیں دیتے۔وہ اپنی تائید اس قدر تشدید اور تاکید وارد ہوئی ہو جتنی اس حکم میں وارد ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ آپ نے ایسے نکاح کے باطل ہونے کے متعلق تین مرتبہ اصلان فرمایا۔- تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اس ارشاد کے مطابق حضرت عمر حضرت علی حضرت ابن عباس اور حضرت ابو ہریرہ سختی سے عمل کرتے تھے۔حضرت عمرہ کے متعلق تو ثابت ہے کہ ایک دفعہ ایک عورت نے ایک سفر کے دوران میں اپنے جائز ولی کی بجائے کسی دوسرے شخص کو اپنا ولی بنا کر نکاح کر لیا۔جب حضرت عمرؓ کے پاس یہ خبر پہنچی تو آپ نے اس نا جائز ولی اور نکاح کرنے والے مرد دونوں کو کوڑے لگوائے اور ان کے نکاح کو نا جائز قرار دیا۔کشف الغمہ جلد من حضرت علی ر کے متعلق مغنی لابن قدامہ میں منقول ہے :- مَا كانَ اَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشَدُّ فِي النِّكَاحَ بِغَيْرِ ولى من عَلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَضْرِبُ فيه (مغنی لابن قدامه جلد ۲ ۴۵۵) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے حضرت علی " بغیر ولی کے نکاح کے متعلق سب سے زیادہ ہے وہ سختی کیا کرتے تھے اور ایسے لوگوں کو کوڑے لگایا کرتے تھے۔رض حضرت ابو ہر برگ سے دار قطنی میں روایت منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :- لا تزوج الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا فَانَ الزَّانِيَةَ هِى التى تُزَوج نَفْسَهَا که عورت بغیر ولی کے خود بخود اپنا نکاح نہ کرے کیونکہ یہ تو رانیہ کا کردار ہے کہ وہ خود بخود اپنے آپ کو دوسرے مرد کے سپرد کر دیتی ہے۔(ابن ماجہ و دار قطنی بحوالہ منتقى جلد منه کیا صحابہ کے علاوہ تابعین میں سے ابن المسید بن حسن شریح مخفی اور عمر بن عبدالعزیز کا مذہب بھی یہی تھا کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح حرام ہے۔فقہار میں سے امام ثوری اوزاعی مالک ابن المبارک شافعی امام احمد اور اسمی کا بھی یہی مذاہب ہے۔ابن المنذر نے لکھا ہے کہ صحابہ میں سے کسی ایک کا بھی اس کے خلاف عمل نہیں ملتا۔و و فقار جو حضرت ابن عباس کی اس روایت سے استدلال کرتے ہیں۔الشَّيْبُ اَحَقُّ بِنفس من والا کہ ہیں کہ بیوہ یا مطلقہ عورت اپنے نفس کی اپنے دلی کی نسبت زیادہ حقدار ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیوہ عورت اپنے ولی کی اجازت بغیر نکاح کر سکتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے نکاح کے بارہ میں اسکی رائے کو خاص اہمیت دی جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ اسکی مرضی کا بالصراحت علم ہونا ضروری ہے۔غرض اسلام میں کسی عورت کا نکاح اسکی رضا مندی حاصل کئے بغیر جائز نہیں البتہ مرضی معلوم کرنیکے طریق میں فرق ہے چنانچہ باکرہ عورت کی رضا مندی معلوم کر نیچے لئے صرف اسکی خاموشی کافی ہے لیکن بیوہ عورت کی رضا معلوم کر نیچے لئے اسکی خاموشی کو کافی قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس لئے اس کا صریح اذن ضروری ہے پس اس حدیث کا صرف یہ مطلب ہے کہ اس بارہ میں بیوہ عورت کی رائے کو خاص اہمیت حاصل ہوگی نہ یہ کہ وہ خود بخود یہاں چاہیے نکاح کر سکے گی۔خود حضرت ابن عباس جو اس روایت کے راوی ہیں ان سے عکرمہ نے مشہور روایت لانگام الا بولي والسلطان ولى من لا ولی لئے بھی بیان کی ہے جس کو ابن ماجہ نے باب لا نام الا بولی کے ماتحت نقل کیا کیا ہے۔پس ان دلائل سے معلوم ہوا کہ اس بارہ میں امام شافعی اور امام مالک کا مذہب ہی درست اور صائب ہے۔