ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 11
دلیل خطاب یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ نے فرمایا۔تُسَا مو اليتيمة فى ننها نیز آپ نے فرمایا لا تُنْكُمُ اليَتِيمَةُ إِلَّا بِإِذْنِھا۔اس سے مفہوم مخالف یہ نکلتا ہے کہ وہ لڑکی جس کا باپ زندہ ہو اسکی رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے سوائے بیوہ بالغہ کے جس کے متعلق تمام فقہا ء کا اجماع ہے کہ اس کی رضا مندی حاصل کرنا ضروری ہے۔عمومی حکم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آب آح بِنَفْسِهَا مِنْ وَليها نيز فرمايا لا تنكُمُ الايْمُ حَتَّى تُستَا مَر یہ حکم بالغہ اور غیر بالغہ کے لئے عام ہے۔اور اس میں کسی کی تخصیص نہیں کی گئی۔یہی وجہ ہے کہ امام شافعی کا یہ مذہب ہے کہ بیوہ لڑکی خواہ بالغہ ہو یا غیر بالغہ شادی کے لئے اس کی رضا مندی L حاصل کرنا ضروری ہی ہے۔ان مسائل میں اختلاف کی ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام فقہار کا اس امر پر اجماع ثابت ہے کہ باپ باکرہ غیر بالغہ پر نکاح کے معاملہ میں جبر کر سکتا ہے۔اور بیوہ بالغہ پر جبر نہیں کر سکتا۔اب یہ امر قابل تحقیق ہے کہ اس حکم کا اصل باعث کیا ہے۔بعض نے کہا ہے کہ اس کی وجہ بکارت ہے اور بعض نے کہا کہ اسکی وجہ صغرسنی یعنی چھوٹی عمر ہے۔پس جن فقہا نے اسکی وجہ صفر سنی قرار دی ہے ان کے نزدیک باکرہ بالغہ پر جبر نہیں کیا جا سکتا اور جن کے نزدیک اسکی وجہ بکارت ہے وہ کہتے ہیں کہ باکرہ بالغہ پر جبر کیا جا سکتا ہے لیکن شیہ صغیرہ پر جبر نہیں کیا جاسکتا۔اور جنہوں نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو منفردا اس حکم کی علت قرار دیا ہے ان کے نزدیک باکرہ بالغہ نہ ترجمہ : یتیم لڑکی کے نکاح کے بارہ میں اس سے اجازت حاصل کی جائے۔نیز یتیم لڑکی کا نکاح اسکی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔(ابو داؤد کتاب النکاح باب فی الاستیمار ) سے جب کوئی حکم کسی قید یا وصف یا شرط کے ساتھ بیان کیا جائے پھر اگر وہ قید یا وصف بی شرمانہ پائی جایگی تو وہ حکم بھی نہ پایا جائے گا۔ترجمہ : بیوہ عورت اپنے نکاح کے بارہ میں اپنے ولی کی نسبت زیادہ اختیارات کی مالک ہے۔نیز بیوہ عورت کا نکاح اسکی رضا مندی حاصل کئے بغیر نہ کیا جائے۔(اس روایت کو محدثین کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے۔بحوالہ منتقی حلوا عنه) یہ مذہب دلائل کے لحاظ سے زیادہ مضبوط اور درست معلوم ہوتا ہے۔