ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 12 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 12

۱۳ اور ثیبہ بغیر بالغہ ہر دو پر جبر کیا جا سکتا ہے۔رفع بکارت جس کی وجہ سے احکام تبدیل ہو جاتے ہیں مثلاً یہ کہ اس پر نکاح کے بارہ میں جبر نہیں کیا جا سکتا یا اس کی رضامندی واضح الفاظ میں معلوم کرنا ضروری ہو جاتی ہے۔اس کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے کہ یہ رفع بکارت کس طریق پر ہونی چاہیئے۔امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ رفع بکارت نکاح صحیح کی صورت میں ہو یا شبہ نکاح کی صورت میں یا ملکیت کی وجہ سے ہو۔لیکن اگر یہ رفع بکارت زنایا غصب کے ذریعہ سے ہو تو اس صورت میں اس پر باکرہ کے احکام ہی نافذ ہونگے یعنی نکاح کے موقعہ پر اس کا اسکوت ہی اس کی رضامندی کے لئے کافی ہوگا۔اور صغیرہ ہونے کی صورت میں اس کا والد اس کی شادی کے معاملہ میں اس پر جبر کرسکے گا۔امام شافعی کے نزدیک رفع بکارت خواہ کسی وجہ سے ہو اس پر قتیبہ کے احکام نافذ ہوں گے۔اس اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد الشیب بِنَفْسِهَا مِنْ وَلَيْهَا۔میں بعض نے شیبہ سے مراد اصطلاحی نییہ لی ہے۔اور بعض نے تیبہ لغویہ۔جنہوں نے اصطلاحی ثیبہ مراد لی ہے۔ان کے نزدیک نکاح صحیح یا نکاح شبہ یا ملکیت کا پایا جانا ضروری ہے۔لیکن جنہوں نے ثیبہ لغویہ مراد لی ہے ان کے نزدیک بکارت خواہ کسی وجہ سے زائل ہو جائے۔اس پر شیبہ کے احکام نافذ ہو جائیں گے۔جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے اس امر پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ باپ اپنی نابالغ باکرہ بیٹی اور نابالغ بیٹے کو نکاح کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔اور اس کے متعلق انکی رضامندی ایسا نکاح جو شرعا حرام ہو لیکن نکاح کے وقت اس کا علم نہ ہوسکا ہو مثلاً نکاح کے بعد یہ معلوم ہو کہ منکوحہ اس کی رضاعی نہیں ہے یا اس کی بیوی کی حقیقی بہن ہے وغیرہ غصب سے مراد زنا بالجبر ہے۔وہ عورت جس کی بکارت نکاح صحیح یا شبہ نکاح یا ملکیت کے باعث زائل ہو گئی ہو۔ے وہ عورت جس کی بکارت نکاح صحیح شعبہ نکاح ملکیت یا کسی اور وجہ سے زائل ہو گئی ہو۔مشکل زنا یا بیماری و غیره