ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 10 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 10

زندہ ہے اس کا حکم یتیم لڑکی سے مختلف ہے۔یعنی اس کو اس کا باپ شادی کے لئے مجبور کر سکتا ہے لیکن قیم لڑکی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ اس کی رضا مندی حاصل کرنا ضروری ہے۔بعض دوسرے فقہار نیم اور غیر تقسیم میں کوئی فرق نہیں کرتے۔وہ ہر دو کی رضا مندی حاصل کرنا ضروری قرار دیتے ہیں۔ان کی دلیل حضرت ابن عباس کی ایک مشہور روایت ہے میں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الیکی تستآمر اور صحیح مسلم میں ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں۔البكر يَسْتَأْذِنُها البو تھا۔یہ روایت عمومیت پر دلالت کرتی ہے۔اور ایسا حکم پہل خطاب یا مضوم مخالف سے زیادہ قوی ہوتا ہے۔ایسی بیوہ جو نابالغہ ہو اس کے متعلق امام مالک اور امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ اسے اس کا باپ شادی پر مجبور کر سکتا ہے۔لیکن امام شافعی اس پر جبر کی اجازت نہیں دیتے۔فقہاء متاخرین کے اس بارہ میں تین اقوال ہیں :- اول :- طلاق کے بعد مطلقہ عورت جب تک بالغ نہ ہو اس کا والد اسے مجبور کر سکتا ہے یہ اشہب کا قول ہے۔دوم :۔اس کا باپ اسے مجبور کر سکتا ہے اگر چہ وہ بالغ ہو گئی ہو۔یہ سحنون کا قول ہے۔سوم -:- اس کا باپ اسے مجبور نہیں کر سکتا۔خواہ بالغہ ہو یا نا بالغہ یہ اپنی تمام کا مذہب ہے۔امام مالک کا یہ مذہب ابن قصار نے اختلافی مسائل پر بحث کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔اس اختلاف کی بنا دلیل خطاب اور حکم عمومی ہے۔له :ترجمہ: پاکرہ لڑکی کے نکاح کے متعلق اس سے اجازت حاصل کی جائے۔ر صحیح مسلم باب استيذان الشيب في النكاح بالنطق والبكر بالسكوت ) سے ترجمہ :- باکرہ عورت کے نکاح کے متعلق اس کا باپ اس سے رضا مندی حاصل کرے۔صحیح مسلم کتاب النکاح باب استیذان الشيب في النكاح بالنطق والبكر بالسكوت) سے یہی مذہب دلائل کے لحاظ سے زیادہ مضبوط اور درست معلوم ہوتا ہے۔کے کلام کے اصل مفہوم کی بجائے اس کے بالمقابل مفہوم پر طرز کلام کی دلالت کو دلیل خطاب کہتے ہیں اسکی ایک قسم مفہوم مخالف بھی ہے ه و حکم جس میں عمومیت پائی جائے۔