ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 291
۲۹۱ نہیں ہے بلکہ وہ اس کے بغیر ہی رجوع کر سکتے ہیں۔پہلے فریق کی دلیل یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بعان کے بعد فرمایا تھا :- لا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا۔" اس میں آپ نے کسی قسم کی استثناء نہیں فرمائی۔اس سے معلوم ہوا کہ۔بحان کے بعد مطلق حرمت لازم آتی ہے۔دوسرے فریق کی دلیل یہ ہے کہ جب خاوند نے اپنے قول سے رجوع کر لیا۔تو یغان کا حکم باطل ہو گیا۔پس جس طرح اس رجوع کی وجہ سے اس کے بچے کی نسب اس کی طرف لوٹ آئے گی۔اسی طرح اس کی بیوی بھی اس کی طرف لوٹ آئے گی۔کیونکہ اس حرمت کی اصل وجہ تو یہ تھی کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی صداقت کا بھی یقینی علم نہ تھا اس لئے اُن کے درمیان حرمت قائم کی گئی تھی۔اب جبکہ ایک کا صدق واضح ہو گیا تو اس کے بعد حرمت قائم نہیں رہنی چاہئے۔بعان کے بعد کے احکام | بعان کے موجبات کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ لعان کے بعد فرقت واجب ہے یا نہیں ؟ اور اگر واجب ہے تو کب ؟ نیز کیا محض یعان کی بنا پر واجب ہے یا اس کے لئے حاکم کے حکم کی ضرورت ہے ؟ نیز کیا یعان طلاق کے قائمقام ہے یا فسخ نکاح کے ! جمہور کا مذہب یہ ہے کہ فرقت محض بعان کی وجہ سے واجب ہوتی ہے۔جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کے بعد فریقین کے درمیان فرقت کا حکم نافذ فرمایا۔اور یہ ارشاد فرمایا کہ :- " لا سبيل لكَ عَلَيْهَا " عثمان نبی اور اہل بصرہ کے ایک فریق کا مذہب یہ ہے کہ بعان کے بعد فرقت لازم نہیں ہوتی۔انہوں نے یہ دلیل دی ہے کہ یہ حکم آیت یہان میں